UrduTech Venus

September 02, 2008

منظرنامہ

اگست 2008 کے بلاگ: حصہ سوئم

اس ہفتہ کے منتخب بلاگ پر تبصرہ کے ساتھ منظرنامہ پر آپ کے میزبان حاضر ہیں۔

اس ہفتہ اردو بلاگنگ میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملی ہیں جو بلاشبہ اپنے اندر معلومات اور افادیت رکھتی ہیں۔ کیا خیال ہے ماوراء؟

ہاں عمار، اس ہفتہ اردو بلاگز واقعی کافی فعال رہے ہیں۔ تو کون سی تحریر سب سے پہلے ہے؟

شروع کرتے ہیں دریچہ کے بلاگ سے۔ ان کے بلاگ پر دو نئی تحاریر سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پہلی تحریر تھی ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر۔ یہ تحریر پاکستان میں موبائل فون کے غلط استعمال کے بارے میں عام رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دریچہ نے لکھا ہے کہ کیسے وقت بے وقت مسڈ کالز اور بے معنی ایس ایم ایس بھیج کر تنگ کیا جاتا ہے۔ پھر اسی حوالہ سے اپنی زندگی کے ایک خطرناک تجربہ کا ذکر کیا ہے کہ کیسے اسی مسئلہ کی وجہ سے ان کے ابو کو سخت تکلیف میں طویل وقت گزارنا پڑا۔ درحقیقت یہ انتہائی سبق آموز تحریر ہے۔

دریچہ ہی کے بلاگ پر ایک اور دلچسپ تحریر ہے کیسے کیسے لوگ۔ یہ بلاگ پاکستان اور بیرون پاکستان ٹھگوں اور ناٹک کرکے فراڈ کرنے والوں کے چند واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے ایک فقیر سے لے کر برطانیہ کے ایک انکل تک کے قصے لکھنے کے بعد لکھتی ہیں کہ

“سوچتی ہوں ہم پاکستانی تو فراڈ میں بھی ابھی تک پرانے طریقوں پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔”

جی ماوراء۔۔۔!

جیسا کہ ماہ رمضان المبارک شروع ہوچکا ہے۔ تو قارئین کو ہماری جانب سے ماہ رمضان کی آمد بہت مبارک ہو اور اللہ تعالی ہمیں اس مبارک مہینے میں ڈھیر ساری عبادت اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین!

ماہ رمضان کے حوالہ سے کافی بلاگز پر مبارکباد کی تحاریر سامنے آئی ہیں لیکن حکیم خالد کے بلاگ پر ایک مفید اور معلوماتی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے جس کا عنوان ہے روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے۔ اس میں حکیم خالد نے روزہ کے جسمانی فوائد بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی غذا متوازن رکھنے کے لیے بھی چند باتیں بیان کی ہیں جنہیں ذہن نشین رکھنا ضروری ہے۔

ہاں ماوراء! بالکل۔ اور رمضان کے حوالہ سے تمہارے بلاگ پر بھی اچھی تحریر ہے رمضان مبارک جس میں تم نے ناروے میں موجود مسلمانوں کی رمضان اور روزے کے حوالہ سے سوچ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابوشامل کے بلاگ پر بھی ایک تحریر رمضان مبارک ہے جس میں رمضان کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ آرٹ کا ایک شاہکار بھی موجود ہے۔

عمار! شگفتہ کے بلاگ کا ذکر بھی کرتے چلیں کہ اب کے ان کا بلاگ بھی فعال نظر آیا اور دو دلچسپ تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ پہلی تحریر تھی کوئی ہے جو کہ پکوڑوں سے اپنی رغبت کے اظہار میں تھی جس کے آخر میں شگفتہ لکھتی ہیں:

تمام سگھڑ خواتین ، کھانے پینے کے/کی شوقین اور پکوڑے بنانے کے / کی ماہرین توجہ پلیز ۔ ۔ ۔ مجھے پکوڑے بنانے کی مختلف تراکیب جمع کرنے میں مدد فرمائیں کہ مجھے پکوڑوں سے انتہائی رغبت ہے clip_image001

چاہے مجھے ایمیل کر دیں ، چاہے اپنے بلاگ پر لکھیں
اگر اپنے اپنے بلاگ پر ترکیب لکھیں تو میں پکوڑوں کی خاطر مقابلہ کروانے کو بھی تیار ہوں مقابلہ کا انعام میں منظر نامہ کی جیب سے نکلوانا ہے ان شآءاللہ

اچھا۔ تو زور کس پر ہوا ماوراء؟ پکوڑوں کی ترکیب پر یا منظرنامہ پر؟ :)

اس پر تو شگفتہ ہی کچھ روشنی ڈال سکیں۔

شگفتہ کے بلاگ پر حالیہ تحریر جہیز لکھی گئی ہے جو بیش قیمت جہیز دینے، جہیز کی طلب کرنے اور اس قبیح رسم کے خلاف ہے۔ اس پوسٹ میں شگفتہ ایک شادی کا دلچسپ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ جب دولہا نے عین نکاح سے پہلے اچانک لڑکی والوں سے ایک گاڑی کا مطالبہ کردیا تو نکاح خواں مولانا صاحب نے کیسے اس لڑکے کی درگت بنائی اور اسے اسٹیج سے چلتا کرکے ایک مخلص اور باعتماد لڑکے سے لڑکی کا نکاح کروادیا۔

عمار،تمہارے پاس اگلی تحریر کون سی ہے؟

میرے پاس بدتمیز! یعنی موصوف بدتمیز کی کچھ تحاریر۔ :) ان دنوں ان کے لکھنے کا زیادہ تر رجحان امریکہ میں جاری صدارتی الیکشن کی مہم پر رہا ہے۔ جیسے ایک تحریر Joe Biden ہے جو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اوباما کے وائس پریزیڈنٹ منتخب کرنے پر ہے۔ اس پوسٹ میں بدتمیز نے سینیٹر جو بائیڈن کے بارے میں لکھا ہے اور اوباما کے فیصلہ کا جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ سنو، دیکھو، سمجھو اور سیکھو۔ اس میں اوباما اور ہیلری کے مابین پیدا ہونے والی تلخی اور اور ہیلری کلنٹن کی جانب سے اوباما پر کیے جانے والے حملوں اور ان کے جواب میں اوباما کے پر وقار انداز کے سبب اپنی سوچ بدلنے کا ذکر ہے۔ اسی حوالہ سے ایک اور پوسٹ Gustav بھی لکھی ہے جو جان مکین کے وائس پریزیڈنٹ کے اعلان پر ہے۔ بدتمیز نے جان مکین کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ آغاز ہی میں لکھتے ہیں:

“بالآخر جان مکین نے اپنی وائس پریزیڈنٹ کا اعلان کر ہی دیا۔ یہ الاسکا کی گورنر سارا پیلن ہیں۔ میں نے اوبامہ کے متوقع امیدواروں کی کوالیفیکیشن لکھی تھی۔ خاتون کی کوالیفیکشن صرف اتنی ہے کہ یہ خاتون ہیں۔ کیا سارا کو منتخب کرنا جان مکین کی شکست خوردگی کا اعتراف ہے کہ وہ اوبامہ سے لڑے بغیر ہی شکست خوردہ محسوس کر رہے ہیں جو ان کو ہیلری کے 18 ملین کی فکر پڑ گئی؟”

جی ماوراء، آپ کے پاس اگلی تحریر کون سی ہے۔

عمار، ابوکاشان ان دنوں اپنے بلاگ پر عمرانیات کے عنوان سے آپ بیتی لکھ رہے ہیں جس کی ابھی تیسری قسط سامنے آئی ہے تاہم یہ اقساط کافی مختصر مختصر ہیں۔ لکھنے کا انداز متاثر کن اور دلچسپ ہے۔ اس کے علاوہ مکی کا بلاگ بھی ان دنوں خاصا فعال نظر آرہا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ مکی اپنے بلاگ پر آزاد مصدر پروگرامز کے بارے میں لکھ رہے ہیں جیسے یہ تحریر ہے کہ VIA کا Xorg ڈرائیور آزاد مصدر۔ ایسے ہی ایک Sun نے Java UI Toolkit آزاد مصدر کردی۔ اسی طرح کی مزید تحاریر بھی مکی کے بلاگ پر پڑھنے کو ملی ہیں جن کا مقصد یقینا صارفین کو آزاد مصدر پروگرامز کی طرف راغب کرنا اور چوری شدہ سافٹ وئیر کے استعمال سے روکنے کا ذہن بنانا ہے۔

عمار، آخر میں آپ کس کے بارے میں بتانا چاہیں گے۔

میرے پاس ایک آخری چیز ہے ، اور وہ ہے عمیر سلام کی سلام بازار کمیونٹی جس کا ذکر انہوں نے ہمارے ساتھ اپنے انٹرویو میں بھی کیا تھا۔ ان دنوں یہاں حساس کا سفرنامہ امریکہ کے موضوع پر تحاریر سامنے آرہی ہیں جن کی حال ہی میں تیسری قسط لکھی گئی ہے۔ سلام بازار کمیونٹی فری بلاگ بنانے کی سہولت فراہم کررہی ہے جو کہ خوش آئند ہے تاہم انہیں اردو فونٹس استعمال کرنے چاہئیں یا کم از کم تاہوما تاکہ اردو بلاگز کی تحاریر آسانی سے پڑھی جاسکیں۔

یہ تھیں اگست کے آخری ہفتے کی کچھ منتخب تحاریر۔ اگلی قسط کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے ان شاء اللہ۔

خدا حافظ۔

by منظر نامہ at September 02, 2008 04:40 PM

اردو لطائف

رعب

بیٹا بولا “ڈیڈی آج ہمارے کالج میں فنکشن ہو رہا ہے اور میں موٹر سائیکل کی بجائے آپ کی آٹھ لاکھ کی کار پر کالج جاؤں گا”۔

باپ “بیٹا وہ کیوں؟”۔

بیٹا “تاکہ میں دوسروں پر رعب جما سکوں”۔

باپ نے دس کا نوٹ نکال کر بیٹے کے ہاتھ میں تھما دیا

بیٹا بولا “یہ کیا”۔

باپ بولا “تم نے ہی کہا تھا کہ آٹھ لاکھ کی کار میں جا کر رعب جماؤ گے، یہ لو دس روپے اور تم بیس لاکھ کی بس میں چلے جاؤ”۔

by admin at September 02, 2008 03:23 PM

بی بی سی اردو بلاگ

'دین کی دعوت'

deb_hasan_madrassa_150.jpgایک امریکی اخبار 'بفیلو ٹائمز' نے خبر دی ہے کہ نیویارک کے قریب ایک اسلامی مدرسے کے پرنسپل کو مدرسے کی ایک اکیس سالہ طالبہ سے جنسی تعلقات استوار کرنے پر اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا۔

اخبار کے مطابق پہلےسے ہی شادی شدہ اور سات بچوں کے باپ پرنسپل ابراہیم میمن نے اپنی ایک اکیس سالہ طالبہ سے ایسے تعلقات کو عین اسلامی اور اپنی دوسری شادی سے تعبیر کیا۔

اگرچہ امریکی قوانین کی رو سے ایک وقت ایک سے زیادہ شادیاں سنگین جرم ہے۔

امریکی میڈیا میں لڑکی کے والدین بلکہ مولانا ابراہیم میمن کے مدرسے کو بھیجے جانیوالے بچوں کے والدین، اور ایک مشہور مسلم تنظیم 'مسلم پبلک افیئرز کاؤنسل' نے بھی مدرسے کے پرنسپل کے ایسے عمل پر سخت تاسف اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

'والدین نے اپنا اولاد جیسا سرمایہ مولوی ابراہیم جیسے لوگوں کو امانت کر کے بھیجا اور انہوں نے امانت میں خیانت کی'، مسلم پبلک افیئرز کاؤنسل مقامی رہنما ڈاکٹر خالد ‍قاضی کا کہنا تھا۔ لڑکی کے والد نے کہا 'ہم نے اپنی اولاد کو مدرسوں میں اسلامی تعلیمات کے لیے بھیجا لیکن ان مدرسوں میں نہ امریکہ کا اور نہ کہیں کا قانون چلتا ہے بلکہ ان کا اپنا قانون ہے۔'

مولوی ابراہیم کے خلاف مدرسے کی ڈسپلینری کمیٹی نے ایکشن لیا اور ایک انضباطی کارروائي کے نتیجے میں انہیں نہ صرف سات برسوں کے لیے پرنسپل کے عہدے سے ہٹ جانا پڑا بلکہ، اب وہ لڑکیوں کو کبھی نہیں پڑھائیں گے۔ اب لڑکوں کا خدا انکی عصمت اور عافیت برقرار رکھے! پر مولوی کا ہوگیا مواخذہ!

جو امام کی نیت تھی وہ کہتے ہیں کہ طالبہ کی اپنی نیت نہیں تھی اور اس سے قبل بھی کئي لڑکیوں کو مولوی اس طرح 'دین کی دعوت' دے چکا تھا۔ اخبار 'بفیلو نیوز' لکھتا ہے 'لڑکی کے مطابق مولوی سےاس کی (لڑکی کی) پہلی خفیہ ملاقات مدرسے کے بیسمینٹ میں مقفل ہیٹنگ روم میں ہوئی جہاں اس نے لڑکی کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔ جب لڑکی نے اس پر اعتراض کیا تو پھر اس نے کہا کہ وہ عین اسلام کے مطابق اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ایسے مرغوں جیسے زانی مولویوں کے ایسے اعمال کو سندھ میں لوگ (طنزاً) 'دین کی دعوت' کہتے ہیں۔۔۔

تو اے ایمان والو! کیا یہ بھی یہود و نصار کی سازش ہے!

September 02, 2008 03:17 PM

منان احمد

Ramadan: The Night Rides

originally posted September 13, 2007

Jagtay Raho was the ever-contradictory yell uttered at regular intervals by the night watchman in our neighborhood. He was a wizened old man, at least I think he was old, who carried a heavy stick and sometimes a M1 Carbine. Jagtay Raho, he would dramatically intone right as he passed by our house. Stay Awake. As far as I could tell, the man served no purpose beside making me furious. Except during Ramadan. That is when he would switch his 3 a.m. cry to Uth Jao. Sahri ka Waqt Hai, Wake Up, it is time to eat before the fast.

In Ramadan, Lahore lit up like one of those trick candles. Bright and shimmery. The usual rhythms of the city reversed themselves. Streets became navigable. Cranky butchers threw in an extra chop. Aunties bargained but with lips muttering silent prayers. There was less noise. More genialness. The blast of the anti-aircraft guns to signal the breaking of the fast. The mounds and mounds of dates. The fried foods and fresh fruits piled on the same table. The 7Up in Milk cold drink. The pakoras. The uncle sneaking a cigarette smoke behind the tree. The unexplained weight gain on certain people. The never-ending taraveeh. Qur’an on a loop on the telly. The fetishization of color. And an ever-growing sense of invincibility in my 14 year old self.

I don’t know about spiritual blessings but Ramadan was solely a time for me to flex my muscles. I could fast - exalted in the complete mastery over my own flesh - all day, and still play a game of cricket or squash, run countless errands, and bike to school and back. All this in the oppressive heat and humidity of July and August. Tough, doesn’t even begin to describe me.

Look Ma, no food.

The glories of keeping full fast - for a whole month - while patiently waiting the last excruciating hours of the sinking sun were too many to describe: One would get trotted out to the company of adults and praised for one’s dedication and stamina; one would get to brag and lord over one’s peers and friends who only managed to fast for 24 or 29 days; one would strain to remember the last Ramadan - was I three, I wonder? - when one didn’t hold an entire month’s fast.

But all that glory paled, at least in my eyes, to the pitch black night bicycle ride to the market. To get fresh yogurt. I mean, not only are you awake when the world is supposed to be asleep. But everyone is awake. Except no cars are on the street. I would zig and zag on my bike all the way to the kulcha and yogurt shop, whizzing through the night mist, thrilled to be out there before the false dawn.

My rosy nostalgia aside, Ramadan Mubarak to all of you gentle readers.

by sepoy at September 02, 2008 01:40 PM

حکیم خالد

انصاف کی طاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   
” سرکاری نظام میں ایک عدالتی مقدمہ پانچ سال لیتا ہے اور بھاری رشوتیں اس کے علاوہ ہوتی ہے جبکہ طالبان ایک سہ پہر میں اس کا فیصلہ کردیتے ہیں۔“ … افغانستان کے صوبہ وردک کے سرکاری جج امان الله اسحق زئی کے یہ الفاظ افغانستان میں طالبان کی مقبولیت اور دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ اور طاقتور اقوام کی غاصب فوجوں کے مقابلے میں ان کی مسلسل کامیابیوں کے اصل راز سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ برطانیہ کے معروف جریدے گارجین کے نمائندے Jason Burke کا کہنا ہے کہ طالبان کی اصل طاقت ان کی مستعد متوازی انتظامیہ ہے جس کے سبب وہ آج مقامی آبادی کے دل جیت کر کابل کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔24 اگست کو"Taliban win over locals at the gates of Kabul" کے عنوان سے منظر عام پر آنے والی گارجین کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ وردک کی آٹھ لاکھ کی آبادی میں سے سرکاری عدالت میں اکثر صرف وہی لوگ جاتے ہیں جنہیں اپنے کاغذات پر سرکاری مہر لگوانی ہو۔ باقی بیشتر آبادی اپنے معاملات کا تصفیہ کرانے کے لیے طالبان سے رجوع کرتی ہے۔ یہاں انہیں اگرچہ کھردرا انصاف ملتا ہے مگر عموماً موٴثر ہوتاہے۔ گارجین کے نمائندے کے بقول ہر دیہاتی کے پاس ایسی کہانیاں ہیں کہ طالبان نے کس طرح جائیدادوں کے بے شمار تنازعات طے کرائے جو افغان معاشرے میں بہت عام ہیں۔
طالبان لوٹ مار اور دیگر سماجی جرائم پر قابو پانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں، اس کی وضاحت کے لیے وردک سے رکن پارلیمنٹ محمد موسیٰ ہوتک نے جیسن برک کو یہ واقعہ سنایا کہ طالبان پچھلے ہفتے جل ریز نامی جنوبی ضلع کے ایک گاوٴں میں پہنچے ۔ وہاں کے تین مشہور ڈاکووٴں کو انہوں نے گرفتار کیا۔ ان کے چہرے تارکول سے کالے کیے، انہیں عبرت کی مثال کے طور پر علاقے میں گشت کرایا اور پھر غالباً موت کی سزا دے دی۔پچھلے سال افغانستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ تھا کہ جو علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں، وہاں انہوں نے مجموعی طور پر 70 سے90 مجرمان کو موت کی سزا دی جبکہ کم سنگین جرائم میں کئی ہزار لوگوں کو دوسری مختلف سزائیں دی گئیں۔رکن پارلیمنٹ موسیٰ ہوتک کے بقول طالبان کی ان کارروائیوں کا عام طور پر لوگوں کی جانب سے خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ہوتک بتاتے ہیں کہ کسی علاقے میں پہنچنے کے بعد طالبان سب سے پہلے قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری لینے کا اعلان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ”ہم ایک مرغی تک کے ذمہ دار ہیں۔“افغان رکن پارلیمنٹ معترف ہیں کہ ”لوگ ان پر اعتبار کرتے ہیں، جب وہ کسی ڈاکو کو قتل کرتے ہیں تو ہر شخص خوش ہوتا ہے۔“
حکومت کے ایک وزیر نے گارجین کے نمائندے کو بتایا کہ اس کے اپنے گاوٴں میں طالبان نے کس طرح ایک دکاندار کا لوٹا ہوا مال واپس دلوایا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ دکاندار نے طالبان سے ڈکیتی کی شکایت کی تو انہوں نے صرف اتنا کیا کہ علاقے میں رات کو ایک پمفلٹ جسے شب نامہ کہا جاتا ہے، تقسیم کیا۔لوگوں سے رابطے کا یہ طریقہ افغانستان کے مزاحمت کاروں نے برسوں سے اختیار کررکھا ہے۔ وزیر کے گاوٴں میں بانٹے جانے والے اس شب نامے کا مضمون یہ تھا : ” ہم ڈاکہ ڈالنے والے کو جانتے ہیں اور (لوٹا ہوا مال واپس نہ کیا گیا) تو اسے برسرعام پھانسی دیدی جائے گی۔“ وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ محض اس کارروائی کے نتیجے میں متعلقہ دکاندار کو اس کا سارا سامان واپس مل گیا۔ جس وزیر نے گارجین کے نمائندے کو یہ واقعہ سنایا اسی نے یہ بھی بتایا کہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا دکاندار لٹنے کے بعد سرکاری حکام کے پاس پہنچا مگر اسے اپنے لٹے ہوئے سامان میں سے کچھ بھی واپس نہیں ملا بلکہ اس ناکامی کے بعد جب اس نے طالبان سے مدد طلب کرنے کی بات کی تو اسے الٹا زدوکوب کیا گیا۔ کابل کے قریب میدان شاہ کے علاقے کے جوار میں رہنے والے ایک قبائلی سردار عصمت الله نے گارجین کے نمائندے کو بتایا: ”جب طالبان برسراقتدار تھے تو آپ نوٹوں سے بھرا ہوا تھیلا لے کر (ڈھائی سو میل دور) قندھار تک مسلسل ڈرائیو کرسکتے تھے اور کسی میں یہ ہمت نہیں تھی کہ آپ کو ہاتھ بھی لگا سکتا۔ مگر اب چوروں کی حکومت ہے۔
 
جناب آصف زرداری نے اتفاق سے اگست کی 24ہی تاریخ کوبی بی سی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ مغربی دنیا اور حکومت پاکستان طالبان کے مقابلے میں ہاررہے ہیں اور اس جنگ میں یقینی طور پر طالبان کا پلہ بھاری ہے۔اس صورت حال پر حکومت پاکستان کی پریشانی قابل فہم ہے۔ چنانچہ جولائی کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم کی قیادت میں حکمراں اتحاد کے پہلے سربراہی اجلاس میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی گئی۔ مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی نے اس اجلاس میں غیرمبہم الفاظ میں کہا تھا کہ صوبہ سرحد پاکستان سے الگ ہورہا ہے اور طالبان کے قبضے میں جارہا ہے۔ اس اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پشاور کے گردوپیش کے ان اضلاع میں بھی طالبان کے اثرات مستحکم ہیں جہاں لڑائی نہیں ہورہی ہے۔ جبکہ آج پشاور تو کیا خود حکمرانوں کی جانب سے کراچی کی طالبانائزیشن کے اندیشے ظاہر کیے جارہے ہیں۔ 29 اگست کو چھپنے والی ایک نہایت چشم کشا رپورٹ کے مطابق سیکوریٹی سے متعلق ایک اہم سرکاری اہلکار نے براہ راست بات چیت میں قبائلی علاقوں کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ رونگٹے کھڑے کردینے والا سوال اٹھایا کہ ”اگر سوات اور فاٹا میں ہماری فوج خود اپنی خواہش یا سیاسی تائید کی کمی کی وجہ سے مزید لڑنے سے انکار کردے تو کیا ہوگا۔اس صورت میں ملک کہاں جائے گا اور طالبان کے سیلاب کو کون روکے گا۔“
ان حالات میں حکمرانوں کو پوری سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ دنیا کی طاقتور ترین قوموں کے مقابلے میں ان خاک نشینوں کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ خود مغرب کے لوگ کس طرح اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ یہ انصاف کی طاقت ہے جس کے بل پر طالبان نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ اس لیے پاکستان کوطالبانائزیشن کے خطرے سے بچانے کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ یہاں بھی بے لاگ ، فوری اور مفت انصاف عام ہو۔ جو بھی یہ کام کرے گا، لوگوں کے دلوں پر اسی کی حکومت ہوگی۔

 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اسی ادا نے انہیں کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھوں کا تارا بنادیا ہے۔انہوں نے بیرنگ خطوط پر بھی سوموٹو ایکشن لے کر اور ہر مظلوم کوبے لاگ انصاف کی فراہمی کو اپنا مشن بناکر عوام کی نگاہ میں ملکی نظام کو قابل اعتماد بنانے کی عظیم خدمت شروع کی تھی۔ کیونکہ یہ اعتماد ہی ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کی حقیقی ضمانت بن سکتا ہے۔ موجودہ حکمراں بھی ،عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کی حقیقی بحالی اور آئین و قانون کی سچی حکمرانی کے قیام میں مسلسل لیت و لعل سے کام لے کر لوگوں کو مایوس کررہے ہیں حالانکہ اگرآئین پر عمل ہو تو یہ ملک پوری دنیا کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق اسلام کے نظام عدل و رحمت کی قابل تقلید مثال بن سکتا ہے ۔ مگر ہمارے مقتدر طبقے مسلسل اس آئین کی بالادستی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ عدلیہ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستان کے لوگ بھی طالبان کے کھردرے مگر موٴثرانصاف کو خوش آمدید کہیں تو حکمرانوں کو کسی شکایت کا کوئی حق نہیں ہوگا کیونکہ انصاف ہر انسانی معاشرے کی سب سے ناگزیر ضرورت ہے۔
ثروت جمال اصمعی

by hakimkhalid at September 02, 2008 09:57 AM

راہبر

کیا تمہیں یاد ہے؟

سنو۔۔۔! کیا تمہیں یاد ہے۔۔۔۔۔!!!

آج۔۔۔
۔۔۔۔ ہمارے ساتھ کو پورے تین سال
۔۔۔۔ ہماری دوستی کو دو سال
اور
۔۔۔۔ ہماری محبت کو ایک سال
مکمل ہوگیا۔

لیکن۔۔۔!!
یہ سال۔۔۔۔ یہ سال شاید جدائی کا ہے۔۔۔ :chup:
:F :break

by راہبر at September 02, 2008 08:59 AM

شاکر عزیز

اک “براؤزر” ہور

شاید اب جنگِ براؤزراں مزید دلچسپ ہوجائے۔ وجہ اس بیان کی یہ ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر، فائر فاکس، اوپیرا اور سفاری کے بعد اب وڈّے پاء جی نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور حسب معمول یہ براؤزر – جیسا کہ کمپنی کی پالیسی ہے- آنے والے 23 برسوں تک کے لیے بطور بی ٹا جاری کردیا جائے گا۔ نام کروم Chrome ہے۔اور گوگل کا یہ ویب براؤزر ویب کٹ پر مشتمل ہے۔ ویب کٹ ایک انجن ہے جو ایچ ٹی ایم ایل وغیرہ کرو رینڈر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

حسب معمول و توقع اسے عمومی انداز میں متعارف کروانے کی بجائے گوگل نے یہ خبر باوثوق ذرائع کے ذریعے جاری کروائی ہے۔ یہ ویب کامک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ 38 صفحات کے اس کامک میں گوگل نے براؤزر اور پروجیکٹ کے بارے میں تمام تفاصیل مہیا کی ہیں۔ ایک آزاد مصدر ویب براؤز بنام کروم Chrome

کچھ خصوصیات واقعی لائق توجہ ہیں۔ جیسے اس کا نیا جاوا سکرپٹ انجن وی 8 جو کثیر عملی(بیک وقت ایک سے زیادہ عمل کاری ) کا ڈیزائن استعمال کرتا ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے براؤزر کو چھیڑے بغیر انفرادی صفحات کو انفرادی طور پر ہی ختم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میموری کی کچھ قربانی البتہ دینا پڑتی ہے۔ ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے مزید وضاحت کی کہ ہر صفحے کا اپنا ریت خانہ ہے یعنی اپنی دنیا جس میں طوفان آنے سے دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس میں وہی عام خصوصیات جیسے اینٹی فشنگ سے بچاؤ، ٹیب وغیرہ موجود ہونگی۔ اس کا ونڈوز ورژن آج جاری کیا جانا ہے جبکہ لینکس اور میک ورژن بعد میں آئیں گے۔ سکرین شاٹس پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔ اور اس کا مواجہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے گوگل کی بٹن اور ونڈو کے بارے میں اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے۔ ایسے ہی میکنٹوش نے سفاری کے ساتھ کیا تھا۔

by دوست at September 02, 2008 08:09 AM

خدا انسان کی سوچ سے زیادہ عظیم ہے

قدیر احمد رانا ملتانی

ہمارا کیا بنے گا :(

راقم نے تین ماہ قبل زرداری کے صدر بننے کی پیشنگوئی کی تھی جو اب درست ثابت ہو رہی ہے ۔ نون اور قاف والے آپس میں سر پھوڑتے رہ جائیں گے اور یہ زرداری صدر بن جائے گا ۔ یاد رکھیے کہ یہ شخص پانچ سال سے پہلے نہیں جانے والا ۔ نواز شریف چھ سات مہینے اس کا مفعول بنا رہا ہے (بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے ، اندر کی بات خدا جانے) ، اب بیٹھا روتا ہوگا کہ یہ کیا کیا ۔۔ اگر یہ حکومت ٹوٹ بھی جائے تو صدر تو بیٹھا ہی رہے گا ۔ ہور چوپو ۔

یار لوگوں نے ابھی سے زرداری کو "دعائیں" دینا شروع کر دی ہیں ۔ مثلاً ۔۔۔

لوگوں نے احمد فراز کو اتنا یاد کیا کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ، اب سارے مل کر زرداری کو یاد کریں ۔

زرداری کو اغوا کر لیا گیا ہے اور تاوان میں پانچ ارب ڈالر طلب کیے گئے ہیں ۔ تاوان ادا نہ کرنے کی صورت میں زرداری کو پٹرول سے جلانے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ برائے مہربانی تعاون کیجیے ۔۔۔۔۔۔
میں نے دس لٹر پٹرول دے کر تعاون کیا ہے ۔

by Tuzk.net (noreply@blogger.com) at September 02, 2008 05:43 AM

رمضان المبارک

الحمدللہ ہمیں ایک اور ماہِ رمضان نصیب ہوا ۔ اللہ ہمیں اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے اور برائیوں سے دور رہنے کی ہمت و توفیق دے ، آمین

رمضان المبارک پر میری دو پرانی تحریریں

بے چارہ لاؤڈ سپیکر
رمضان کی برکات

by Tuzk.net (noreply@blogger.com) at September 02, 2008 05:26 AM

راہبر

مرحبا رمضان

ماہِ رمضان کا چاند نظر آچکا۔ آج یکم رمضان المبارک 1429ھ ہے۔ آپ سب کو ماہِ رمضان کی مبارک۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بابرکت مہینے عطا فرمایا۔ اللہ پاک ہمیں اس کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

یہاں لوگ ابھی سوچ رہے ہیں کہ رمضان میں اپنے نظام الاوقات کیسے مرتب کریں۔ ایک گھنٹہ کے آگے پیچھے ہونے سے مسئلہ ہورہا ہے۔ بہرحال! میں نے اپنی مصروفیات کا خاکہ بنالیا ہے۔ صبح سحری کے بعد قرآن پاک کی تلاوت اور پھر کمپیوٹر۔ آٹھ بجے تک گھر سے نکلنا ہوگا کیونکہ ماہِ رمضان میں دفتر نو بجے پہنچنا ہے۔ سہ پہر تین بجے دفتر سے چھٹی۔ گھر جاکر نیند۔ پھر عصر، افطار، مغرب۔ تھوڑی دیر ٹی۔وی یا کوئی اور کام، ساڑھے نو بجے عشاء اور تراویح۔ گیارہ بجے تک گھر واپسی اور بارہ بجے بستر پر۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کس قدر ہوتا ہے۔:razz:

کل برے پھنسے۔ شام ساڑھے پانچ بجے گھر کے لیے نکلا اور ساڑھے نو بجے گھر پہنچا۔ ڈیڑھ گھنٹہ تک بس میں پھنسا رہا، پھر ابو کو فون کیا تو وہ بھی نکل رہے تھے۔ ساڑھے سات بجے صدر پہنچے، ان کے ساتھ بیٹھا تو دو گھنٹہ تک بائیک پر بیٹھا ہی رہا۔ برا حال ہوگیا۔ اس قدر ٹریفک جام تھا کہ خدا کی پناہ۔ اب تک ٹانگیں درد کررہی ہیں۔

پچھلے سال میں نے رمضان میں ایک بہت دلچسپ تحریر لکھی تھی، اب بھی اس کی یاد تازہ ہے۔ آپ چاہیں تو دوبارہ پڑھ لیں: انڈہ

by راہبر at September 02, 2008 05:03 AM

ابو کاشان

رمضان المبارک : مرحبا



رمضان المبارک : مرحبا

کراچی میں رمضان کی آمد ان شاء اللہ آج بعد نمازِ مغرب متوقّع ہے۔رمضان المبارک تمام مہینوں کا سردار ہے۔ اس مہینے میں رحمتوں کا نزول اس کثرت سے ہوتا ہے کہ کسی دوسرے مہینے میں نہیں ہوتا۔ اس مہینے میں ایک رات شبِ قدر ہے جس میں کی گئی مقبول عبادت کا ثواب ہزار راتوں میں کی گئی عبادتوں سے بھی ذیادہ ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ لوٹ سیل کا مہینہ ہے۔ اس میں ہر عبادت میں ثواب دوگُنا نہیں، چار گُنا بھی نہیں، ستّر گنا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے آفس کے سامنے والی مشہور ملبوسات کی دکان نے ٪٦٠ تخفیف کا اشتہار آویزاں کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رش بڑھتا گیا اور دُکان کا مال ختم ہوتا گیا۔ کیوں کہ عام حالات میں یہ نہایت مہنگا ہوتا ہے۔ کچھ پیشکشیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ایک کی قیمت میں دو حاصل کریں۔ تو وہاں بھی ایسا ہی حال ہوتا ہے ، سب مال دنوں میں صاف ہو جاتا ہے۔رمضان میں تو اللہ میاں نے ایک کے بدلے ستّر دینے کا وعدہ کیا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو تمام عباستوں سے فوائد سرف اور صرف انسان کو ہی حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ میاں کو تو کچھ بھی نہیں چاہیئے وہ تو صرف دینے کے بہانے ڈھوندتا ہے اور ہم ایسے کہ کنی کترا جاتے ہیں۔

روزہ رکھنا مشکل ہے کیا؟؟؟ عام دنوں میں ہم ایک ناشتہ اور دو کھانوں کے ساتھ دن گزارتے ہیں۔ سوچیں ہم رمضان میں کتنا کھاتے ہیں۔ اللہ کا کروڑ ہا شکر ہے کہ عام دنوں سے ذیادہ ہی ملتا ہے۔ ایک سحری ایک کھانے کے برابر ہوئی، پھر افطار بھی ایک کھانے کے برابر ہی ہوئی اور پھر تراویح کے بعد بھی ہم کچھ کھا ہی لیتے ہیں یہ ناشتہ کے برابر ہوا۔ تو کمی کہاں آئی۔ اب دیکھیں کہ روزہ ہے کتنا۔ سحری کھائی نماز پڑھی سو گئے۔ آفس کے لیئے اٹھے ناشتے کی جگہ سحری تو کر لی ہے نا تو ظہر تک کی کھانے کی چھٹّی۔ آفس سے آئے تو سو گئے اب عصر میں اٹھنا ہے۔ نمازِ عصر کے بعد اب وقت ہی کتنا رہ گیا۔ یہ ہی اصل روزے کو محسوس کرنے کا وقت ہے۔ سوچیں ہم کو تو اللہ کا شکر ہے ایک وقت کا فاقہ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کو پورا دن یا دنوں کچھ کھانے کو نہیں ملتا ان کا کیا ہوتا ہو گا۔ کبھی سوچا؟؟؟ اس وقت ضرور سوچئے گا۔ میں تو اگر کچن میں چلا جاؤں تو وقت ہی کم پڑ جاتا ہے کہ افطار بنانے میں اتنا مصروف کہ معلوم نہیں کب روزہ کھل گیا۔ اب جو دل چاہے کھاؤ پیو منع کس نے کیا ہے۔ ایک سے دو گھنٹے کا تو روزہ ہے اور ثواب اتنا کہ اللہ کہتا ہے کہ اس کی جزا میں خود ہوں۔ کوئی چیز نہیں کہا کہ جنت ملے گی، یاقوت کا محل ملے گا، دودھ کی نہریں ملیں گی۔ کہا اس کی جزا میں خود ہوں۔ خود بتاؤ ایک طرف خزانہ ہے اور دوسری طرف خزانہ بانٹنے والا شہنشاہ تو آپ کس کی خواہش کرو گے؟؟؟اللہ تعالیٰ ہم سب کو خیر و عافیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس مہینے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے لیئے جو خیر و برکت کی دعائیں مانگیں ہیں ہمیں ان کا اہل بنا۔ آمین۔

by ابو کاشان (noreply@blogger.com) at September 02, 2008 04:11 AM

وارث

میں روزے سے ہوں - سید ضمیر جعفری

سید ضمیر جعفری اردو ادب کا ایک بہت بڑا اور معتبر نام ہیں، انکی شاعری ‘طنزیہ و مزاحیہ’ شاعری میں اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ رمضان کے حوالے سے سید ضمیر جعفری کے گہرے طنز کے حامل اشعار:

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو ذرا ہوشیار، میں روزے سے ہوں

شام کو بہرِ زیارت آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کرلیں دوست رشتہ دار، میں روزے سے ہوں

تو یہ کہتا ہے لحنِ تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار، میں روزے سے ہوں

(سید ضمیر جعفری)

بحر - بحر رمل مثمن مخذوف

افاعیل - فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

تقطیع:

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

مج سِ مت کر - فاعلاتن
یار کچ گف - فاعلاتن
تار مے رو - فاعلاتن
زے سِ ہو - فاعلن

ہو نَ جائے - فاعلاتن
تج سِ بی تک - فاعلاتن
رار مے رو - فاعلاتن
زے سِ ہو - فاعلن

by محمد وارث at September 02, 2008 04:05 AM

بدتمیز

خبریں

میں جب پانچویں جماعت میں تھا تو ہفتہ میں ایک دن اسمبلی میں اخبار پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ باقی 5 دن اور بچوں کی باری ہوتی تھی۔ چلیں آج میں آپ کو اخبار پڑھ کر سناتا ہوں۔

میرے بچپن میں کبھی کبھی اسکول میں مسوں کو جوش چڑھتا تھا لہذا وہ اسمبلی کے بعد ایک ایک بچے کا ناک منہ کان گلا ناخن چیک کرتی تھیں۔ ہفتہ پہلے دی جانے والی وارننگ کے باوجود ملزمان کو حسب توفیق مار لگائی جاتی تھی۔ باقی چیزوں پر تحقیق جاری ہے لیکن اگر آپ کان کی میل ابھی تک صاف کرتے ہیں تو کرنا بند کر دیں بری بات جدید تحقیق کے مطابق یہ بڑی مفید چیز ہے۔

سمندری طوفان hanna اب ہریکین بن چکا ہے۔ آج ہی اس نے طوفان سے ہریکین کا سفر مکمل کیا ہے۔ امریکہ مخالفین کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں کمزور سا ہریکین ہے اور drought زدہ علاقے پر اچھی خاصی بارش برسائے گا۔ امید ہے اس کے طفیل جمعہ تک ہم بھی اچھی خاصی بارش سے لطف اندوز ہونگے۔ ہریکین کے facts یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ طوفانوں کے بارے میں معلومات اور ہریکین کی کیٹگری کیا ہوتی ہے یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ gustav کی تصاویر یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

باجی سارا پالین پیلن کنزرویٹو جماعت کی طرف سے نائب صدارت کی پرامید ہیں۔ ان کی اپنی بیٹی بھی امید سے ہیں۔ 17 سالہ bristol پانچ ماہ کی حاملہ ہیں۔ سارا نے ان لبرل بلاگر کی طرف سے قیاس آرائیوں، کہ سارا کا پانچ ماہ کا بیٹا دراصل ان کی بیٹی برسٹل کا بیٹا ہے اور سارا نے دراصل ڈھونگ رچایا ہے، کے بعد تنگ آ کر بیان جاری کیا ہے کہ ان کی بیٹی اسقاط حمل نہیں کروائے گی اور بچے کے والد سے شادی کرے گی۔ یاد رہے کہ نہ صرف سارا اسقاط حمل کے خلاف ہیں بلکہ ری پبلکن پارٹی بھی اس کو ایک بڑے ایشو کے طور پر لیتی ہے۔ سارا نے کہا کہ برسٹل اور اس کا ہونے والا خاوند جلد جان لیں گیں کہ بچہ پالنا کتنا مشکل ہوتا ہے لہذا وہ اس کو مکمل سپورٹ کریں گیں۔ برسٹل کو پتہ لگے نہ لگے کہ بچہ پالنا کتنا مشکل کام ہے سارا کو ضرور پتہ لگ گیا ہو گا کہ اسقاط حمل کی مخالفت کبھی کبھی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔ جان مکین campaign نے اس صورتحال پر کہا ہے کہ وہ پہلے سے برسٹل کا معاملہ جانتے تھے اور سارہ کی candidacy پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا نہیں خیال جان مکین کو پہلے سے علم تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب انٹرنیٹ برطانیہ میں 50 میگا بائٹ فی سیکنڈ کی رفتار home users کے لئے کرنے کے لئے لابی ہو رہی ہے جبکہ عام طور پر وہاں 8 میگا بائیٹ دستیاب ہے۔ امریکہ میں مناپلی ڈائل اپ کی جان نہیں چھوڑ رہی۔ ابھی ہم ڈی ایس ایل پر جا رہے ہیں۔ جبکہ کیبل کمپنیاں ایف سی سی کو جو حیلے بہانے دیتی ہیں ان میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ لوگ فلمیں ڈاؤنلوڈ کریں گیں۔ اکثر کالے 5 ڈالر کی فلمیں بیچتے پھرتے ہیں۔ ان بہانوں کے بعد ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم ڈی ایس ایل سے آگے نہیں جانا چاہتے۔ اس کے بعد کچھ اس قسم کے اقدامات ہوتے ہیں جیسے کام کاسٹ نے فی ماہ انٹرنیٹ استعمال کی لمٹ 250 گیگا بائٹ کر دی ہے۔ میں نے کام کاسٹ نہیں بلکہ ورائزن سے انٹرنیٹ لیا تھا۔  کام کاسٹ کا حال دیکھیں جو نیٹ سپیڈ برطانیہ میں 8 پاؤنڈ یا 15 ڈالر کی ملتی ہے وہ یہاں 70 ڈالر میں دی جا رہی ہے۔

گوگل میپس پر سیٹلائٹ امیج اس قدر ناکارہ ہیں کہ بس۔ پہلے پہلے زوم کرنے پر اچھا خاصہ نظر آتا تھا۔ پھر گوگل کو بھارت تک نے تنگ کر مارا۔ اس کے بعد گوگل کو سیٹلائٹ ویو کم ریزولوشن پر کرنا پڑا جو کہ مجھے نہیں پسند تھا۔ اب گوگل اور geoeye کا معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد گوگل میپس کو اس سال نومبر تک نئے امیج مل جائیں گیں۔ geoeye کی سائٹ پر سیمپل امیجز تو اچھے ہی ہیں۔ اب پرسوں لانچ ہونی ہے یہ سیٹلائٹ۔

 

Similar Posts:

ShareThis

Random Posts

by بدتمیز at September 02, 2008 03:52 AM

دریچہ

رمضان المبارک 1429 ہجری

ہم سب مسلمانوں کو آمدِ رمضان بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور اس مہینے سے فیض اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین(

آثار تو اچھے دکھائی دیتے ہیں کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں نے وقتی طور پر اپنی کاروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں بھی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب اللہ کرے رمضان میں کوئی بدمزگی نہ ہو۔

دوسری طرف حکومت نے رمضان پیکج کا اعلان تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی مجبوریوں کا بھی اظہار کر دیا ہے تو اب جن لوگوں کی قسمت اچھی ہوئی وہ اس پیکج سے فائدہ اٹھا لیں گے اور جو میری طرح سست الوجود واقع ہوئے ہیں ان کی جیب پر اچھا خاصا اضافی بوجھ یقینی ہے۔ ‘ آج ٹی وی پر ایک خبر تھی کہ کراچی کی حکومت نے ماہِ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء کا نرخنامہ جاری کیا ہے جس میں پہلی بار سموسوں اور پکوڑوں کی قیمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ سموسے 120 روپے درجن اور پکوڑے 200 روپے کلو ہوں گے۔ مزید تفصیل یہاں موجود ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے افراد کے لیے افطار کا انتظام ہو جائے تو بہت ہے دوسروں کی افطاری کا تو سوچنا بھی محال ہو گا۔ ویسے ایک لحاظ سے اچھا ہی ہے۔ اس طرح کتنے خرچے بچیں گے لوگوں کے۔ افطار میں کم چیزیں ہوں گی، کم برتن دھونے پڑیں گے۔ مشقت بھی کم اور پانی کی بھی بچت ,حکومت اسی پانی کو بجلی بنانے میں استعمال کر لے گی :D ;کچن جلدی سمیٹ لیا جائے گا, لائٹس آف اور بجلی کی بھی بچت ; جو دعوت نہیں کر سکیں گے ان کی بجلی، گیس اور پانی کے اضافی استعمال کی بچت; جو دعوت پر جائیں گے نہیں، ان کے پٹرول اور کرایے کے خرچے کی بچت. ویسے بھی یہ تلی ہوئی چیزیں صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں لیکن عوام دھیان نہیں دیتے اس لیے کراچی کی حکومت نے بہترین حل نکالا ہے۔ ‘نہ نو من تیل ہو گا نہ۔۔۔۔‘ :D اور سب سے بڑی بات کہ دعوتوں میں گپ شپ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے لوگ اپنے اپنے گھروں میں وہی وقت عبادت کرنے میں لگائیں گے۔ کچھ ثواب کمانے کے لیے نوافل پہ نوافل پڑھتے جائیں گے اور کچھ نوافل پڑھ کر پکوڑوں اور سموسوں کی قیمتیں کم ہونے کی ہونے کی دعا کریں گے تاکہ تیس دنوں میں کم از کم تین دن تو ان کا ذائقہ محسوس کر سکیں :( . اسے کہتے ہیں ‘ہمہ جہت منصوبہ سازی‘ :D یعنی دنیاوی اور دینوی دونوں طرح سے فائدہ۔ اب سمجھ میں آیا کہ ہمارے خواص کو عوام کی کتنی فکر رہتی ہے۔ یہ تو ہم عوام ہی ناشکرے ہیں جو ہر وقت لٹھ لیے حکومت کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔

حکومت نے تو نیکیاں کمانے کا پورا بندوبست کر لیا۔ ہم کیونکہ حکومت نہیں ہیں اس لیے جو مہلت مل گئی خطائیں معاف کرانے کی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت اور توفیق دے کہ میں اس بار رمضان میں ترجمے کے ساتھ قرآن مکمل پڑھ سکوں (آمین)۔ میرے بھائی کے فائنل ایگزامز ہو رہے ہیں. صبح اس کا پہلا پیپر ہے۔ اللہ تعالیٰ رمضان کی آمد اس کے لیے اور اس کے سب ہم جماعتوں کے لیے بہت مبارک ثابت کرے۔ اور ان کا پیپر بہت اچھا ہو جائے (اور اگر پیپر چیک کرنے والے بھی دیالو ہو جائیں رمضان کی برکت سے تو کیا ہی بات ہے :D ) آمین

 

موبائل فون پر قرآن اور اذان/نماز کے اوقاتِ کار سوفٹ ویئر

تلاوتِ قرآن

عبارتی قرآن

اذان اور نماز کے اوقاتِ کار

 

 

 

by Virtual Reality at September 02, 2008 12:46 AM

September 01, 2008

بلوچ

رمضان مبارک

دنیا کے تمام مسلمانوں کو میری طرف سے رمضان کی خوشیاں مبارک ہو۔آمین ثم آمین

by بلوچ at September 01, 2008 10:00 PM

حیدرآبادی

لعلکم تتقون

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

روزے کی حیثیت کو سامنے رکھو پھر غور کرو کہ جو شخص حقیقت میں روزے رکھتا ہے اور اس میں چوری چھپے کچھ نہیں کھاتا پیتا ، سخت گرمی کی حالت میں بھی جبکہ پیاس سے حلق چٹخا جاتا ہو ، پانی کا ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اتارتا ، سخت بھوک کی حالت میں جبکہ آنکھوں میں دم آ رہا ہو کوئی چیز کھانے کا ارادہ نہیں کرتا ، اسے اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر کتنا ایمان ہے؟
کس قدر زبردست یقین کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی حرکت چاہے ساری دنیا سے چھپ جائے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی۔
کیسا خوف خدا اس کے دل میں ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف اٹھاتا ہے مگر صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اس کے روزے کو توڑنے والا ہو؟
کس قدر مضبوط اعتقاد ہے اس کو آخرت کی جزا و سزا پر کہ مہینہ بھر میں وہ کم از کم 360 گھنٹے روزے رکھتا ہے اور اس دوران میں کبھی ایک لمحہ کے لئے اس کے دل میں آخرت کے متعلق شک کا شائبہ تک نہیں آتا۔ اگر اسے اس بات میں ذرا سا بھی شک ہوتا کہ آخرت ہوگی یا نہ ہوگی اور اس میں عذاب و ثواب ہوگا یا نہ ہوگا تو وہ کبھی اپنا روزہ پورا نہیں کر سکتا۔
شک آنے کے بعد یہ ممکن نہیں کہ آدمی خدا کے حکم کی تعمیل میں کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کے ارادے پر قائم رہ جائے۔

( حقیقت صوم ـ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ)

by Hyderabadi (noreply@blogger.com) at September 01, 2008 09:56 PM

عارف انجم

ورڈ پریس 2.6کی طرف

ورڈ پریس کی نئی سریز کو شروع ہوئے عرصہ ہو چکا ہے لیکن میں‌ تاحال پرانے ورژن سے چپکا ہوا تھا۔ وجہ : ایک مرتبہ گھر پر ٹیسٹنگ کے لیے بنانے گئے سرور پر انسٹال کیا تو ورڈ پریس 2.5 نے میرے پرما لنکس کا ستیا ناس کردیا۔

چونکہ میری ترجیح‌ پوسٹ‌ کے عنوان والا پرمالنک استعمال کرنے کی ہے لہٰذا میں نے نئے ورڈ پریس کو نگاہ حسرت سے دیکھ کر ایک طرف رکھ چھوڑا۔ گذشتہ روز ورڈ پریس کی سائیٹ پر گیا تو ورژن 2.6 بھی دستیاب تھا۔ اس کے نئے فیچرز ورڈز کاؤنٹ، تصویری کے کیپشن اور دیگر کافی پرکشش تھے۔

میں نے ڈرتے ڈرتے اسے چیک کیا اور جب پرمالنکس کے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہوا تو خوشی خوشی ضمیمہ ڈاٹ کام پر ورڈ پریس اپ گریڈ کرڈالا۔ ابھی یہ سطور لکھتے ہوئے خودکار محفوظ ہونے کا نظام جب کام کر رہا تو بہت زیادہ طمانیت محسوس ہورہی ہے۔

by Arif at September 01, 2008 08:22 PM

شوبی نامہ

رمضان مبارک

الحمد اللہ!۔۔۔۔۔تمام اُمت مسلمہ کو ایک بار پھر رمضان المبارک کی روح پرور ساعتوں سے مستفید ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ اس نعمت خداوندی کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اس ماہ ِ مبارک کی نعمتوں، برکتوں اور ساعتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان اور تمام عالم  ِ اسلام کو رمضان المبارک کے صدقے ترقی و کامرانی اور امن و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین!

رمضان مبارک

by شوبی at September 01, 2008 06:59 PM

عمیر سلام

رمضان مبارک

تمام قارئين کرام کو ہماري طرف سے ماه رمضان مبارک ہو- اللہ تعاليٰ سب کے روزے، نماز اور ديگر عبادات قبول فرماۓ- آمي

by admin at September 01, 2008 04:48 PM

محمد علی مکی

ذکر 0.7 کا اجراء

ذکر کی ٹیم نے ذکر ورژن 0.7 کے اجراء کا اعلان کیا ہے، اس ورژن کو ذکر رمضان ایڈیشن ٢ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اسے پہلے روزے میں جاری کیا گیا ہے، اس ورژن میں تلاش کی خاصیت کو بہتر بنانے کےساتھ ساتھ آیات کو نشان زدہ کرنے کی خاصیت بھی شامل کی گئی ہے اور ساتھ ہی مختلف بگز دور کیے گئے ہیں، ذکر ایک عالمی آزاد مصدر قرآنی اطلاقیہ ہے جسے جاوا اور SWT لائبریری کو استعمال کر کے بنایا گیا ہے، لینکس ورژن یہاں سے اتاریں.

by مکی at September 01, 2008 04:18 PM

میرا پاکستان

اے خدا

اے خدا ان حکمرانوں کے دل بھِی بدل دے جو رمضان میں بھی

روزے نہیں رکھتے مگر افطاریاں کراتے ہیں

ضمیر کا سودا کرکے حرام مال کماتے ہیں

اپنوں کیخلاف جنگ لڑ کر فتح کے ترانے بجاتے ہیں

ذخیرہ اندوزوں کو چھٹی دے کر عوام کو ستاتے ہیں

آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کے نرخ بڑھاتے ہیں

خود غرضی میں اپنے اقوال سے پھر جاتے ہیں

صدر بننے کیلیے اسمبلی ارکان کی قیمت لگاتے ہیں

جج بحال کرنے کے وعدوں سے پھر جاتے ہیں

اپنی بیٹی کو غیروں کی قید سے نہیں چھڑاتے ہیں

عوام کی پرواہ نہیں کرتے اور غیروں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں

غیروں کے بحری بیڑے پر اپنوں کیخلاف پلان بناتے ہیں

by ميرا پاکستان at September 01, 2008 03:42 PM

اردو لطائف

گدھا

ایک دانشور نے سامعین کو پرچی پر لکھ کر سوالات کرنے کی اجازت دی۔ ان میں سے ایک پرچی پر صرف لکھا تھا “گدھا” دانشور پرچی دیکھتے ہی بولا “میرے ہاتھ میں اب ایک ایسی پرچی ہے جس پر سوال کرنے والے نے اپنا نام تو لکھا ہے مگر سوال لکھنا بھول گیا ہے”۔

by admin at September 01, 2008 03:17 PM

شاکر عزیز

رمضان مبارک

تمام احباب کو رمضان کی خوشیاں مبارک۔

by دوست at September 01, 2008 03:13 PM

شعیب صفدر

خورشید آزاد

آپ سب کو ماہ رمضان مبارک ہو

ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ کل یعنی 2 ستمبر کو پہلا روزہ ہے “ہانگ کانگ” میں۔ اس سے پہلے ہر بار کی طرح اس بار بھی بھائی کا انگلینڈ سے فون آیاتھا اور خبر دی کہ اُن کا تو آج روزہ ہے۔ سچی بات ہے مجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اگر انگلینڈ والے رمضان المبارک کا چاند دیکھ سکتے ہیں تو یہاں ہانگ کانگ میں ہمیں وہی چاند کیوں نظر نہیں آرہا۔اگر کوئی باعلم بھائی مجھے سمجھا سکتا ہے تو برائے مہربانی سمجھا دیجئے کہ یہ مسلہ کیا ہے، بڑی نوازش ہوگی۔

بہرحال مجھے تو ایسے لگتا جیسے ابھی دو تین ماہ ہوئے ہیں ہم نے عید الفطر منائی ہے اور اب پھرکل ماہ رمضان کا پہلا روزہ ہے، اللہ معاف کرے یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ مہینے دن اور سال مہینوں کی طرح گزریں گے۔

ویسے تو مجھے رمضان میں بہت مزہ آتاہے لیکن اس بار تھوڑی گرمی بھی زیادہ ہے اور موسم میں حبس بھی کچھ زیادہ ہی ہے، اور پھراس جلسانے والی دھوپ میں روزہ منہ باگ دوڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ پوچھیئے!! لیکن دوسری طرف پچھلے تین چار سالوں سے روزے بہت آسان تھے کیونکہ موسم ٹھنڈا ہوتا تھا اور جس دن تھوڑی گرمی ہوتی اور پیاس زیادہ لگتی اس دن افطاری کا مزہ ہی کچھ اور ہوتاتھا۔ تو اس لحاظ سے اس دفعہ افطاری سے پہلے دو تین گھنٹے اور پھر آخری پندرہ مینٹس مم مم مم خاصےکرارے ہوں گے، اپنے اپنے گھروں میں تیار رہیں بے وجہ لڑائیوں کیلیئے۔

سب دوستوں کو رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ مبارک ہو، اپنی عبادت میں مجھے بھی یاد رکھیئےگا۔

ShareThis

by خورشید آزاد at September 01, 2008 12:46 PM

اسما مرزا

Devotion

My wife called, ‘How long will you be with that newspaper? Will you come here and make your darling daughter eat her food?

I tossed the paper away and rushed to the scene. My only daughter, Sindu, looked frightened; tears were welling up in her eyes. In front of her was a bowl filled to its brim with curd rice. Sindu is a nice child, quite intelligent for her age.

I cleared my throat and picked up the bowl. ‘Sindu, darling, why don’t you take a few mouthful of this curd rice? Just for Dad’s sake, dear’.

Sindu softened a bit and wiped her tears with the back of her hands. ‘Ok, Dad. I will eat - not just a few mouthfuls, but the whole lot of this. But, you should…’ Sindu hesitated. ‘Dad, if I eat this entire curd Rice, will you give me whatever I ask for?’

‘Promise’. I covered the pink soft hand extended by my daughter with mine, and clinched the deal. Now I became a bit anxious. ‘Sindu, dear, you shouldn’t insist on getting a computer or any such expensive items. Dad does not have that kind of money right now. Ok?’

‘No, Dad. I do not want anything expensive’. Slowly and painfully, she finished eating the whole quantity. I was silently angry with my wife and my mother for forcing my child to eat something that she detested.

After the ordeal was through, Sindu came to me with her eyes wide with expectation. All our attention was on her.

‘Dad, I want to have my head shaved off, this Sunday!’ was her demand.

‘Atrocious!’ shouted my wife, ‘A girl child having her head shaved off? Impossible!’

‘Never in our family!’ My mother rasped. ‘She has been watching too much of television. Our culture is getting totally spoiled with these TV programs!’

‘Sindu, darling, why don’t you ask for something else? We will be sad seeing you with a clean-shaven head.’

‘Please, Sindu, why don’t you try to understand our feelings?’ I tried to plead with her.

‘Dad, you saw how difficult it was for me to eat that Curd Rice’.

Sindu was in tears. ‘And you promised to grant me whatever I ask for. Now, you are going back on your words. Was it not you who told me the story of King Harishchandra, and its moral that we should honor our promises no matter what?’

It was time for me to call the shots. ‘Our promise must be kept.’

‘Are you out of your mind?’ chorused my mother and wife.

‘No. If we go back on ourpromises, she will never learn to honour her own. Sindu, your wish will be fulfilled.’

With her head clean-shaven, Sindu had a round-face, and her eyes looked big and beautiful.

On Monday morning, I dropped her at her school. It was a sight to watch my hairless Sindu walking towards her classroom. She turned around and waved. I waved back with a smile. Just then, a boy alighted from a car, and shouted, ‘Sinduja, please wait for me!’ What struck me was the hairless head of that boy. ‘May be, that is the in-stuff’, I thought.

‘Sir, your daughter Sinduja is great indeed!’ Without introducing herself, a lady got out of the car, and continued, ‘that boy who is walking along with your daughter is my son Harish. He is suffering from… leukemia’. She paused to muffle her sobs. ‘Harish could not attend the school for the whole of the last month. He lost all his hair due to the side effects of the chemotherapy. He refused to come back to school fearing the unintentional but cruel teasing of the schoolmates. Sinduja visited him last week, and promised him that she will take care of the teasing issue. But, I never imagined she would sacrifice her lovely hair for the sake of my son! Sir, you and your wife are blessed to have such a noble soul as your daughter.’

I stood transfixed and then, I wept. ‘My little Angel, you are teaching me how selfless real love is!’

I wonder if any of us can reach such a height in selfless love?

by mE at September 01, 2008 11:37 AM

قدیر احمد رانا ملتانی

سانحہ لال مسجد

آج لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر حملے کو ایک سال ہو گیا ہے ۔ پچھلے سال تین جولائی کو لال مسجد پر آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جس میں سینکڑوں طلباء و طالبات کو قتل کر دیا گیا ۔

by Tuzk.net (noreply@blogger.com) at September 01, 2008 10:47 AM

مردوں کی دنیا میں عورت

اسما مرزا

Feeling Heelish

The more I’m searching through designer heels (on-the-web), the more I’m getting crazier. Crazy I was , already before. thanks.

prettttyThe feat is to  balance thyself on those tiny longish heels perfectly … feeling the oh-so-over-powering confidence and Bang. The thump in ego and not on floor.

I think I should start wearing some already. Practice makes one perfect. Only if Allah had given me 3 more inches. Sigh. Alhamdolillah that I’m what I’m and not three inches lesser. Shukar shukar.

But hey see these … ladies … I’m a flat freak but heels have so much more to offer. Wooopie. Back to work =D

Lift me =D

Oh my ... it'd make me TALL =D

by mE at September 01, 2008 05:36 AM

خدا انسان کی سوچ سے زیادہ عظیم ہے

اوراق

ماہ رمضان

اہل اسلام کو رمضان مبارک! یاالہی اس مقدس ماہ کی برکت سے میرے وطن کو امن و استحکام نصیب فرما۔

by الف نظامی at September 01, 2008 04:21 AM

بدتمیز

Gustav

صدر بش صرف 29 فیصد حمایت کے ساتھ اس وقت پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ یعنی ان کو پولز کےمطابق عوام میں سے صرف 29 فیصد کی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے ملک میں چاہے ہیوی مینڈیٹ ہو یا زرداری حکومت ختم کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ consistency کی کمی کی وجہ سے ہمارے ملک کا یہ حال ہے۔ چونکہ امریکہ consistent ہے لہذا ایک دفعہ چار سال کا عہدہ صدر کو دے دیا تو بس اب غلطی کی تو خمیازہ بھی بھگتو۔ اسی کو لے کر ری پبلیکن پارٹی پریشان تھی کہ کیا عوام دوبارہ ری پبلیکن کو ووٹ دیں گیں؟

صدر بش کے ساتھ ساتھ نائب صدر ڈک چینی کے بھی بڑے لتے لئے گئے ہیں اور ان سے عوام اس قدر نفرت کرتی ہے کہ جان مکین کی نامزدگی کے کنونشن میں کوشش کی جا رہی تھی کہ وہ شرکت نہ کریں۔ لیکن پھر یہ بھی مسئلہ تھا کہ مخالفین کہیں ان کی شرکت نہ کرنے کو بھی ایشو نہ بنا لیں۔ یعنی نہ اگلے بنے یا نگلے والی صورتحال تھی۔ جان مکین نے بھی کوشش کی کہ وہ کرنٹ انتظامیہ سے کچھ فاصلہ قائم رکھیں۔

سیاسی موسم کی گرمی کے ساتھ ساتھ اس سال ویسے بھی بڑی گرمی پڑی۔ میں پچھلے دو سالوں گھاس کا بڑا رونا روتا رہا ہوں۔ اس سال Literally گھاس دو دو ماہ بعد ہم نے کاٹی ہے۔ کیونکہ بارش ہی نہیں ہوئی۔ میں نے جو drought کا لکھا تھا وہ اس سال ورجینیا تک شدید حالت میں پھیل گیا ہے۔ اس ہفتہ سمندری طوفان fay کی باقیات کولڈ فرنٹ سے عین ہماری ریاست پر ٹکرا کر کافی بارش کا سبب بنی۔ 48 گھنٹوں میں تو میں نے 8 انچ بارش ریکارڈ کی تھی۔ پہلے اور دوسرے دونوں دن میرا پیمانہ والا برتن اوور فلو ہوا۔ پھر ساتھ آج صبح بھی ایک انچ بارش ہوئی ہے۔ گھاس ایک دم ہری بھری ہو گئی ہے۔ ابھی تین دن پہلے بارش ہوئی اور کل کاٹنی پڑ گئی۔


View Larger Map

ہمارے گھر کے بالکل پاس ایک جھیل سی ہے۔ دراصل یہ ایک ندی نالہ ہے جو کہ جگہ جگہ پر جھیل بن چکی ہے۔ میرے شہر میں اس نالے پر ایک بند باندھا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ جھیل بن گئی ہے۔ اب یہاں ایک چھوٹا سا پاور ہاؤس ہے جس کو یہ بند پانی فراہم کرتا ہے۔ جو بھی اوور پانی ہو وہ بند کے اوپر سے نکل جاتا ہے۔ ادھر دیکھیں جھیل اور جو سفید لائن ہے وہ دراصل پائپ لائن ہے جو کہ پاور ہاؤس تک پانی لے جاتا ہے۔ پاور ہاؤس کی عمارت کم از کم بھی جنگ عظیم کے وقت کی بنی لگتی ہے۔ میں نے جان بوجھ کر اس کی تصویر نہیں لی کہ کہیں کوئی کچھ کہے نہ۔ جھیل عام طور پر بڑی پر سکون رہتی ہے۔ اتنی بارش کے بعد کیسی تھی؟

PIC-0640

PIC-0641

PIC-0642

PIC-0639

High Resolution Here

ایک نیا طوفان، جو کہ ہریکین بن چکا ہے، gustav آیا کھڑا ہے۔ (ورچوئل ارتھ کی اچھی پریزینٹیشن ہے) سادہ ادھر ویدر چنیل پر۔ اس نے پہلے کیوبا کو چھیڑا اور امید تھی کہ سندری طوفان fay کی طرح یہ بھی کیوبا سے ہوتا ہوا فلوریڈا پر نازل ہو گا۔ لیکن طرح دے گیا۔ کیوبا کے بعد اس نے جمیکا کا رخ کیا اور 90 کے قریب لاشوں کا تحفہ دینے کے بعد یہ سیدھا بھاگا جا رہا ہے لوزیانا کی طرف۔ کل شام یہ 150 میل فی گھنٹہ کی طاقت پکڑ چکا تھا لیکن اب کمزور ہو کر 115 میل فی گھنٹہ پر ہے۔ نیو اورلینز شہر خالی کروا لیا گیا ہے۔ بنائے گئے levee سسٹم پر انحصار ہے۔ ابھی چند دنوں پہلے ایک کالی عورت جس کا گھر نئے بنائے گئے بند سے صرف 200 میٹر دور ہے بڑی خوشی خوشی بتا رہی تھی کہ وہ گھر واپس آ کر بہت خوش ہے اور اگر 2005 میں یہ بند یہاں ہوتا تو شہر نہ ڈوبتا۔ اگر شہر دوبارہ ڈوب گیا تو شائد نیو اورلینز گھوسٹ ٹاؤن بن جائے۔

اس کے علاوہ بھی ایک اور حسینہ سمندر میں مٹر گشت کر رہی ہے۔ اس کا نام ہے Hanna یہ ابھی تک تو سمندری طوفان ہے پر کیا پتہ چلتا ہے ہریکین بن جائے۔ کبھی اس کا موڈ کیوبا کی طرف ہوتا ہے تو کبھی ایسٹ کوسٹ کی طرف دل لگتا ہے۔ دیکھئے یہ کدھر کو جاتی ہے۔ یعنی بیک وقت دو طوفان امریکہ کے ساحلوں پر مٹر گشت کر رہے ہیں۔

یہ طوفان امریکہ کے لئے چاہے بری بلا ہوں صدر امریکہ اور نائب صدر دونوں کے لئے رحمت بن گئے ہیں۔ جان مکین نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ صدر امریکہ نے fema سے اپڈیٹ لینے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اور نائب صدر ڈک چینی ری پبلیکن پارٹی کے کنونشن میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ وہ ٹیکساس جا رہے ہیں جہاں سے وہ اس سے نمٹنے والے جوانوں سے ملیں گیں اور اس تمام صورتحال کا خود کنڑول اور جائزہ لیں گیں۔ صدر نے کہا کہ وہ فوری طور پر تو لوزیانہ نہیں جا رہے کہ ان کی موجودگی مدد میں رکاوٹ نہ بنے لیکن جونہی حالات نے اجازت دی وہ جائیں گے۔ اس سے اس طوفان کے سنگین ہونے کا اندازہ ہو نہ ہو پاکستان اور امریکہ کا فرق ضرور معلوم ہوتا ہے۔

جان مکین نے سکھ کا سانس بھی لیا اور کنونشن کے کافی سارے پروگرام کینسل کر ڈالے جبکہ کہا کہ وہ صدر بش کی کیٹرینا والی غلطی نہیں دہرانا چاہتے۔ شائد مکین بھول گئے کہ وہ اس وقت صدر بش کے ساتھ اپنی 69 سالگرہ منانے میں مصروف تھے۔ جان مکین شائد پاکستانی صدر مشرف سے بہت متاثر ہیں لہذا سب سے پہلے پاکستان کی طرز پر انہوں نے آجکل ملک مقدم یعنی country first کا نعرہ لگایا ہوا ہے۔ جان مکین 7 گھروں کے مالک ہیں وہ بھی ایسے وقت میں جب فور کلوژر کی لائن لگی ہوئی ہے۔ ان کو اپنی ذاتی ملکیت مکانات کی تعداد کا علم نہیں جس پر کافی مذاق اڑایا گیا تھا۔ اس پر مزید مذاق وہ ہمیشہ بڑی کمپنیوں کو ٹیکس بریک دینے کے حق میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں اور مڈل کلاس کی مشکلات کا اندازہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ طوفان سچ مچ جان مکین کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہوا ہے۔

Similar Posts:

ShareThis

Random Posts

by بدتمیز at September 01, 2008 01:35 AM

منان احمد

Good Ice Cream at Avari

From *Daily Waqt* - published from Lahore, Sunday August 31, 2008:

Obama’s mother stayed in Pakistan for 5 years

Lahore (Pervez Al-Islam): The mother of American Presidential hopeful, Barack Obama, Mrs. Ann Dunham lived in Pakistan for five years. During this time, Barack Obama also visited his mother and stayed for a few month. Mrs. Ann Dunham was hired as a consultant by the Asian Development Bank for Pakistan Agricultural Development Bank’s Gujranwalla Agricultural Development Program. This program began in 1987 and ended in 1992. Mrs. Ann Dunham monitored the funds received for this program from the Asian Development Bank and trained the Mobile Credit Officers of the Agricultural Bank. This program was controlled from the Gujranwalla Regional Office. She stayed for five years in the Hilton International Hotel (now Avari Hotel), Lahore. She travelled daily from Lahore to Gujranwalla. When Barack Obama visited Pakistan, he stayed in the same hotel. After returning from Pakistan, she died from cancer within three years.

by sepoy at September 01, 2008 12:11 AM

August 31, 2008

فنٹر

ایپل میک مفت حاصل کریں

ایپل میک سسٹم عام کمپیوٹرز سے بالکل مختلف ہوتے ہیں- ان کی کارکردگی بہت اچھی ہوتی ہے انھیں استعمال کرنے کا طریقہ کار بھی عام کمپیوٹرز سے ذرا مختلف ہوتا ہے-ا ن کے آپریٹنگ سسٹمز بھی بالکل الگ ہوتے ہیں- ایپل میک سسٹم بہت کم لوگوں کے پاس موجود ہوتے ...

August 31, 2008 08:01 PM

حیدرآبادی

ماہِ رمضان : نیکیوں کا مہینہ

السلام علیکم ورحمة اللہ
تمام امت مسلمہ کو رمضان کریم کی آمد مبارک ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کو اس ماہِ مبارک میں گناہوں سے بچائے اور تمام عبادتوں کو بجا لانے کی توفیق دے ، آمین۔

by Hyderabadi (noreply@blogger.com) at August 31, 2008 07:14 PM

بلوچ

میں خوش ہوں

آج میں بہت خوش ہوں ۔ کیوں خوش ہوں؟ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ لیکن خوش ہوں تو خوش ہوں اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے میں پریشان ہوجاتا ہوں۔ آج بغیر کسی وجہ کے خوش ہوں۔

by بلوچ at August 31, 2008 06:37 PM

شاہدہ اکرم

کُلُّ عام وانتُم بخير

سب بہن بھائيوں کو رمضانُ المُبارک کی آمد کی بہت بہت مُبارک ہو اللہ تعاليٰ ہم سب کو اس بابرکت مہينے کی برکتوں سے لُطف اندوز ہونے کی توفيق عطا فرماۓ،آمين
سب کی دلی خواہشيں پُوری ہوں ، ہمارے گُناہوں کو  اللہ تعاليٰ در گُزرفرماۓ، ہماری عبادتوں کو قبُوليّت کا درجہ عطا ہو ہماری سيہ کاريوں کی طويل فہرِست ميں کمی کا کوئ سبب اس مہينے کی برکتوں کی وجہ سے ہو پاۓ ہم جو سارے سال کے گُناہوں کو بُھول کر صرف اس آس پر اُس کے حضُور پھر بھی معافيوں کے خواستگار ہوجاتے ہيں کيُونکہ وہ رحيم ہے کريم ہے اور ہم اُس کی رحمتوں کے طالب اُس بچے کی طرح جو بار بار غلطی کر کے پھر ماں کی گود ميں سر چُھپا کر ماں کے پيار اور دُلار کا طلبگار رہتا ہے اور ستّر ماؤں جتنے پيار کا ہمارا حق دينے والا پيارا ربّ ہميں کيسے  اپنی رحمت کی گود ميں نہيں چُھپا ۓ گا سو آئيے اور لُوٹ ليجيئِے رحمتوں کے خزانوں کو اور اپنی دُعاؤں ميں ہميں بھی ضرُور ياد رکھيۓ گا کہ دُعاؤں کی ضرُورت تو ہر کسی کو ہر وقت رہتی ہے ہميشہ ہر عُمر ميں ،اللہ تعاليٰ  ہم سب کو ايسی رحمتوں کا ہر وقت طلبگار رکّھے ،آمين

by shahidaakram at August 31, 2008 05:43 PM

اردو لطائف

بڑا کب ہوں گا

بیٹے نے باپ سے پوچھا “ابو میں اتنا بڑا کب ہوں گا جب مجھے امی سے پوچھے بغیر باہر جانے کی اجازت ہو گی”۔

باپ مظلومیت سے ہولا “بیٹا اتنا بڑا تو ابھی میں بھی نہیں ہوا”۔

by admin at August 31, 2008 03:10 PM

باذوق

رمضان مبارک

السلام علیکم
رمضان کریم کی نیک ساعتیں آپ تمام کو مبارک ہوں۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُون
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق کو باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں ، پھر تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہئے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری