August 22nd, 2008
مائکروسافٹ نے ایک ایسے سافٹ ویئر کی ریسرچ کا کام شروع کر دیا ہے جو ونڈوز کو ریٹائر کر کے اس کی جگہ لے سکتا ہے۔
میدوری نامی اس نئے پروگرام میں مائیکرو سافٹ کے پرانے پروگرام کے مقابلے زبردست تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
نیا پروگرام انٹرنیٹ پر مرکوز ہے اور اس میں ونڈوز کے صرف ایک کمپیوٹر پرانحصار کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مائیکرو سافٹ کے اس قدم کو ان کے حریف کمپنیوں کی جانب سے شروع کیے گئے ’ ورچیولائزیشن‘ یعنی ایسا آپریٹنگ سسٹم جو ایک سے زيادہ کمپیوٹر پر کام کر سکے ، کے جواب میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس قدم سے ان دنوں کمپیوٹر کی دنیا میں پیش آنے والی دقتوں کا حل نکالنے میں بھی مدد ملے گی۔
حالانکہ میدوری کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے لیکن اب سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ ٹائمز کی جانب سے مائیکروسافٹ کے اندرونی دستاویزات کا جائزہ لیے جانے کے بعد اس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
تیزی سے بدلتی ہوئی کمپیوٹر کی دنیا کا سامنا کرنے کے لیے ایسا مانا جا رہا ہے کہ مائیکروسافٹ نے میدوری پر کام شروع کر دیا ہے۔
ونڈوز نے اس وقت کمپیوٹر کی دنیا میں کافی مقبولیت حاصل کی تھی جب لوگ اپنا کام کرنے کے لیے صرف ایک مشین کا استعمال کیا کرتے تھے۔
سائٹرکس پروڈکٹس کے یوروپئین ڈائریکٹر ڈیو اوسٹن بتاتے ہیں ’ کمپیوٹر کی مشین میں موجود ہارڈ ڈسک میں آپریٹنگ سسٹم لوڈ کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ مشین سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق آج کل جس طرح لوگ چلتے پھرتے کمپیوٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔
میدوری کے بارے میں مائیکروسافٹ سے بی بی سی کی جانب سے پوچھے کے سوال پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے’میدوری ان پروجیکٹس میں سے ایک ہے جس پر کام جاری ہے اور اس سلسلے میں اتنی جلدی بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔‘
موجودہ دور میں کمپیوٹر کے ورچیولائزیشن کے بارے میں ورچیولائزیشن کی ابھرتی ہوئی پروڈکٹس اینڈ مارکٹس کے نائب صدر دان چو کا کہنا ہے ’بعض ورچیول مشینوں نے ونڈوز کمپیوٹر کی طرح کام کیا لیکن اب اس قسم کی مشینیں مخصوص صنعت اور ادارے کے کام ہی آ رہی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ کی جانب سے ونڈوز کے لیے عائد لائسنس کے سبب ورچول مشین کے کام کرنے پر اثر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ونڈوز کو اسی فیصد آمدنی ایک نیے کمپیوٹر کو فروخت کیے جانے سے ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ونڈوز مستقبل میں اپنی اہمیت کھو دیتا ہے تو مائیکرو سافٹ اپنی آمدنی کہاں سے کرے گا؟
Posted in featured | 2 Comments »
August 22nd, 2008
Sony Cybershot DSCW120/B 7.2MP Digital Camera with 4x Optical Zoom with Super Steady Shot (Black)
Posted in featured | No Comments »
August 14th, 2008
Posted in books | No Comments »
August 14th, 2008
Posted in movies | No Comments »
July 28th, 2008
سویڈش محققین کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ، ڈپریشن اور نیند کی کمی مردوں میں ذیابیطس کا مریض بننے کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں۔
محققین کا دعوٰی ہے کہ وہ مرد جنہیں زیادہ نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس ہونے کے امکانات دیگر مردوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق ممکنہ طور پر ذہنی دباؤ ہارمونز پر دماغ کے کنٹرول پر اثرانداز ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 1938 سے 1957 کے درمیان پیدا ہونے والے 2127 مردوں اور 3100 خواتین کا معائنہ کیا گیا تاہم خواتین میں اس قسم کے کوئی اشارے نہیں ملے۔
سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران صحیح گلوکوز لیول کے حامل افراد سے ان میں ذہنی دباؤ، تھکن، ڈپریشن اور انسومینیا کی علامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور پھر آٹھ سے دس برس کے وقفے کے دوران ان افراد میں ذیابیطس کی موجودگی کی جانچ کی گئی۔
اس جانچ سے یہ پتہ چلا کہ وہ افراد جنہیں نفسیاتی دباؤ کا زیادہ سامنا رہا ان میں ذیابیطس کے مریض بننے کا امکان دیگر افراد کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔ تحقیق کے دوران جن خواتین کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں اس قسم کا کوئی ربط دیکھنے میں نہیں آیا۔
اس تحقیق میں شامل سویڈش پروفیسر اینڈرز اکبوم کا کہنا ہے کہ یہ بات پہلے سے ہی سب جانتے ہیں کہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن دل کی بیماری کی وجہ بن سکتا ہے لیکن اب انہیں ذیابیطس کی اہم وجہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں اس وقت قریباً تیئیس لاکھ افراد ایسے ہیں جن میں ذیابیطس کے مرض کی تشخیص ہوئی ہے اور ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو ذیابیطس کا شکار ہیں تاہم انہوں نے ابھی اس کی تشخیص نہیں کروائی۔
bbcurdu
Posted in Uncategorized | 6 Comments »
April 6th, 2008
Kabhi Alvida Na Kehna”
Tum ko bhi hai khabar
Mujhko bhi hai pata
Ho raha hai judaa
Dono ka raasta
Dur jaake bhi mujhse tum meri yaadon main rehna
Kabhi alvida na kehna
Kabhi alvida na kehna
Jitni thi khushiyaa
Sab kho chuki hai
Bas ek gham hai ki jaata nahi
Samjha ke dekha behla ke dekha
Dil hai ki chain isko aata nahi
Aarzoo hai ki hai angarayi
Aag hai kab aankhon se behna
Kabhi alvida na kehna
Kabhi alvida na kehna
Rut aa rahi hai
Rut jaa rahi hai
Dard ka mausam badla nahi
Rang yeh halka itna hai gehra
Sadiyon main hoga halka nahi
Halka nahi
Kaun jaane kya hona hai
Hum ko hai ab kya kya sehna
Kabhi alvida na kehna
Kabhi alvida na kehna
Tum ko bhi hai khabar
Mujhko bhi hai pata
Ho raha hai judaa
Dono ka raasta
Dur jaake bhi mujhse tum meri yaadon main rehna
Kabhi alvida na kehna
kabhi alvida na kehna
Posted in Uncategorized | No Comments »
April 6th, 2008
jaaniye heeriye
jaaniye heeriye
mere mann ye bata de tu
kis or chala hai tu
kya paya nahi tune
kya dhundh raha hai tu
jo hai ankahee jo hai ansuni
woh baat kya hai bata
mitwa kahe dhadkan hai tujhse pyar
mitwa yeh khudse toh na tu chhupa
mere mann ye bata de tu
kis or chala hai tu
kya paya nahi tune
kya dhundh raha hai tu
jo hai ankahee jo hai ansuni
woh baat kya hai bata
mitwa kahe dhadkan hain tujhse pyar
mitwa yeh khudse toh na tu chhupa
jeevan dagar mein prem nagar mein - 2
aaya nazar mein jab se koi hain
tu sochta hain tu puchata hain
jiski kami thi kya yeh wohi hain
haa yeh wohi hain - 2
tu ek pyasa aur yeh nadi hain
kaahe nahi isko tu khulke bataye
jo hai ankahee jo hai ansuni
woh baat kya hai bata
mitwa kahe dhadkan hai tujhse pyar
mitwa yeh khudse toh na tu chhupa
teri nigaahen
par tu yeh soche jaaun na jaaun
yeh zindagi jo hai naachti toh
kyon bediyon mein hai tere paanv
preet ki dhun par naach le paagal
udta agar hai udne de aanchal
kaahe koi apne ko aaise tarsaaye
jo hai ankahee jo hai ansuni
woh baat kya hai bata
mitwa kahe dhadkan hai tujhse pyar
mitwa yeh khudse toh na tu chhupa
mere mann ye bata de tu
kis or chala hai tu
kya paya nahi tune
kya dhundh raha hai tu
mitwa…
Posted in Uncategorized | No Comments »