سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی بھتیجی فاطمہ بھٹو نے daily beast میں لکھے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ہمیں امداد کے طور پر اربوں ڈالر تو موصول ہوئے مگر پاکستان کو محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ملک میں طالبان کی ایک اور قسم وجود میں آئی جو تجارتی راہداریوں کو بموں سے اڑانے اور نوجوان لڑکیوں کو کوڑے مارنے جیسی تخریبی اور گھناؤنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سر سبز وادی سوات میں انتہا پسند طالبان سے دو سال مقابلہ کرنے کے بعد صدر زرداری نے آخر کار ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور نفاذ شریعت کی اجازت دے دی۔ طالبان کے خواب کو قانونی منظوری ملنے کے ایک ہفتے بعد ہی طالبان انتہائی سرعت کے ساتھ ضلع بونیر میں داخل ہو گئے جو وفاقی دارالحکومت سے صرف ٧٠ میل کے فاصلے پر ہے۔
اس مضمون میں فاطمہ بھٹو صدر زارداری اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان آئندہ ہونے والی ملاقات کے بارے میں لکھتی ہیں کہ اس ملاقات میں صدر زرداری اپنے کشکول میں مزید چندہ ڈالے جانے کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کریں گے۔ وہ اوباما پر صرف اتنا واضح کریں گے کہ پاکستان کو طالبان اور انتہاپسندوں سے مقابلہ کرنے کے لئے مزید فنڈ کی ضرورت ہے۔
سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی سے مقابلہ کے لئے پاکستان کو دس ملین ڈالر دیئے جو ضائع گئے یا پھر بڑی جیبوں میں چلے گئے۔ ٹوکیو اجلاس کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ٹوکیو اجلاس میں تیس ممالک کے نمائندے شریک ہوئے اور دہشتگردی سے مقابلہ کے لئے پاکستان کو پانچ بلین ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو ٧۔٦ بلین ڈالر رعائتی پیکیج کے طور پر فراہم کیا ہے، سعودی عرب نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ چار برسوں میں ٧٠٠ ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تو یورپی یونین نے بھی اسی مدت کے دوران اضافی ٦٤٠ ملین ڈالر عطا کرنے کا عہد کیا، علاوہ ازیں صدر اوباما نے سالانہ ١۔٥ بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اگرچہ وائٹ ہاؤس نے وضاعت کہ ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہنا اس کے نتائج پر منحصر ہے۔
فاطمہ بھٹو نے اس مضمون کے آخر میں وضاعت کی ہے کہ اتنی بڑی بڑی رقومات صدر زرداری کی جھولی میں ڈالنا حماقت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے قبل سوئزرلینڈ، انگلینڈ اور اسپین میں ان کے خلاف کرپشن کے معاملات درج تھے۔
فاطمہ بھٹو نے آصف زرداری اور مقتول سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو پر پاکستانی خزانے سے تین بلین ڈالر سے زائد اڑانے کا الزام عائد کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ زرداری اسے چھپانے میں ناکام رہے کیونکہ صدر بننے سے قبل انہوں نے اپنی ملکیت میں ایک بلین ڈالر زائد کے اثاثہ جات کا اعلان کیا۔
فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کو مزید فنڈ کی فراہمی خطرناک ہو گی، اس کی شکم سیری نامکمن ہے بدعنوان حکومت کو جس قدر بھی فنڈ فراہم کیا جائے کم ہے۔ یہ رقومات پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دلانے میں معاون ثابت نہیں سکتیں کہ دنیا کو جن انتہا پسندوں سے نجات دلانے کے لئے رقومات مقصود ہیں انہی کو تقویت بخشنے کے لئے فنڈز کا استعمال ہو رہا ہے۔
فمزا ، جب تمہاری سالگرہ کا دن ہو گا تو میں یہ کارڈ تمہیں بھیجنا ہیں لیکن صرف ایک ۔ ۔ ۔ پسند کر لو کون سا چاہیے
پہلے اُس نے مُس کہا،پھر تَق کہا ،پھر بِل کہا
اِس طرح ظالِم نے مُستَقبِل کے ٹُکڑے کر دِۓ
کہیں پم بھی تو اپنے مُستقبِل کے ایسے ہی ٹُکڑے تو نہیں کر رہے ،سوچیں سوچیں اور ذرا سوچ کر جواب دیں
ہند کے مسلمانوں کی اکثریت کسی کا بھی غلام بننے پر نفسیاتی طور پر تیار ہو چکی تھی کہ مولانا الطاف حسین حالی کو فکر ہوئی اور اُنہوں نے عرضداشت شروع کی ۔ مسلمانوں نے انگڑائی لی مگر جاگ نہ پائے ۔ پھر مولانا شوکت علی نے یہ جھنڈا اُٹھایا جس کے بعد اُن کے چھوٹے بھائی مولانا شوکت علی اور فرزندِ سیالکوٹ محمد اقبال نے اپنے خطوط ۔ تقاریر اور کردار سے قوم کو جاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اُن دونوں نے ہند میں کانگرس کی سیاست سے تنگ آ کر برطانیہ واپس گئے ہوئے محمد علی جناح کو قائل کیا کہ آپ کی ہند کے مسلمانوں کو ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور اپنی بے لوث انتھک محنت سے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی
پاکستان بنا تو سب پاکستانی سینہ تان کر چلتے ۔ اپنے مُلک پر فخر کرتے اور اس کی ترقی کیلئے محنت سے کام کرتے تھے ۔ اِن میں مقامی بھی شامل تھے اور وہ بھی جو اپنا گھربار چھوڑ کر پاکستان آئے تھے ۔ قائداعظم کی وفات کا قوم کو جھٹکا تو لگا مگر محنت اور حُب الوطنی میں فرق نہ آیا ۔ پھر پہلے وزیرِاعظم کے قتل کے بعد قوم ابھی سنبھل نہ پائی تھی کہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی منتخب کردہ اسمبلی غلام محمد نے توڑ دی ۔ غلام محمد اور اس کے بعد سکندر مرزا کے پُتلی تماشہ سے تنگ آ کر 1958ء میں ایک پختون عبدالقیوم خان نے قوم کو پکارا ۔ سوجھ رکھنے والے اہلِ وطن نے لبیک کہا اور عبدالقیوم خان نے پشاور سے لاہور تک 6 میل لمبا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پشاور سے جلوس روانہ ہوا اور جہلم پہنچنے سے پہلے ہی 20 میل سے زائد لمبا ہو گیا ۔ سکندر مرزا گھبراگیا اور مارشل لاء لگا دیا
اس مارشل لاء کے دوران معاشی حالات 1965ء کے آخر تک ٹھیک رہے ۔ لوگوں کو آسانی سے دو وقت کی روٹی ملنے لگی ۔ پیٹ بھر گئے تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جگڑنے لگے ۔ آپریشن جبرالٹر کی غلط معلومات پر مبنی تشہیر نے عوام میں غلط جذبات کو جنم دیا اور ناکامی کے نتیجہ میں لوگ حکومت پر اعتماد کھو بیٹھے اور چینی کی قیمت 9 فیصد اضافے کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے ۔ مارشل لاء پھر آ گیا
عوامی دور آیا اور پرچی ایجاد ہوئی اور معاملہ “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” تک پہنچ گیا ۔ صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے اور وہاں حُکمران جماعت کے کارکنوں کی بھرتی کے نتیجہ میں صنعتکار اپنا پیسہ مُلک سے باہر لے گئے اور عوام روزگار کی تلاش میں مُلک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ دساور سے کمایا پیسہ معیشت کیلئے بہت کم استعمال ہوا ۔ زیادہ تر فضولیات میں اُڑا دیا گیا جن میں وی سی آر ۔ میوزک ڈیک اور دوسری دکھاوے کی اشیاء کے علاوہ شادی کی کئی کئی دن بڑی بڑی دعوتیں شامل ہیں ۔ کچھ لوگ امیر اور مُلک غریب ہو گیا ۔ 1977ء کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کو گولی کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی ۔ دو تین روز کی کاروائی کے بعد لاہور پولیس کی حُب الوطنی جاگ اُٹھی اور اُس نے کاروائی سے انکار کیا ۔ فوج بلائی گئی جس کی صرف ایک کاروائی کے بعد کاروائی کے سربراہ بریگیڈیئر نے کور کمانڈر کے سامنے اپنے بِلے اور پیٹی رکھتے ہوئے کہا “میں اپنے بھائیوں کی حفاظت کیلئے بھرتی ہوا تھا ۔ اُن کے قتل کیلئے نہیں”
دوسرے شہریوں کو دیکھتے ہوئے فوجیوں نے بھی مال بنانا شروع کیا اور وہ منہ زور ہو گئے ۔ عدالتوں کو لیٹرل اَینٹری [lateral entry] کی کھاد پہلے ہی پڑ چکی تھی ۔ معاشرے کی درستگی کرنے والے ناپید ہو گئے ۔ سیاستدانوں کے جھوٹے نعروں اور دوغلے کردار نے “سونے پر سہاگہ” یا زیادہ موزوں ہو گا ” ایک کریلہ دوسرے نیم چڑھا” کا کام کیا ۔ پھر ایک ڈکٹیٹر نے نہ صرف قوم کے فرزندوں کے خون سے ہاتھ رنگے بلکہ سینکڑوں کو ڈالروں کے عِوض بیچ دیا ۔ لوٹ مار اتنی بڑھی کہ سمجھ سے باہر ہو گئی
قوم کو بھُلانا نہیں چاہیئے تھا خان عبدالقیوم خان کو جس نے اپنے وقت کے ڈکٹیٹر کے خلاف آواز اُٹھائی اور قید و بند جھیلی ۔ لاہور کے اُن تھانیداروں اور بریگیڈیئر کو جنہوں نے اپنی قوم پر گولی چلانے کی بجائے ملازمت سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی ۔ مگر قوم کی کوتاہ اندیش اکثریت نے صرف اتنا خیال رکھا کہ مال کتنا اور اکٹھا کرنا ہے ۔ قوم غلط راہ پر آگے بڑھتی گئی اور قومی جذبہ اور احساسِ زیاں کھو بیٹھی ۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ملک کے وزیرِاعظم کو جبری ہٹا دیا گیا لیکن قوم سوئی رہی
دین سے بیگانہ قوم نے جاہلانہ رسم و رواج میں گُم ہو کر اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں میں کیڑے نکالنا شغف اپنایا اور نتیجہ میں ہونے والی اپنی بربادی کا دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرایا ۔ کچھ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے والے اور آگے بڑھے اور قائداعظم میں کیڑے نکانے شروع کئے اور اپنے ہاتھوں تیار کردہ جہنم کو دین کی قباحت قرار دیا ۔ چار دہائیاں قبل بے معنی مباحث کی جگہ حجام کی دُکان ہوا کرتی تھی ۔ قوم پٹڑی سے اُتر گئی اور ہر محفل لاحاصل مباحث کا مرکز بن گئی ۔ دین اور مُلک کے آئین و قانون کی خلاف ورزی روز کا معمول بن گئی ۔ یہ کسی قوم کے زوال کی آخری نشانی ہوتی ہے
حکومت نے اُس علاقہ میں جہاں کبھی بھی مُلک کا آئین نافذ نہیں کیا گیا تھا امن قائم کرنے کیلئے 15 سال پرانا عدل ریگولیشن نافذ کرنے کی منظوری دی تو 1500 کلو میٹر دُور بیٹھے لوگوں نے طوفان مچا دیا ۔ ریاست کے اندر ریاست کا شور مچانے والے اتنا بھی نہیں جانتے کہ اُن کے پسندیدہ مُلک امریکہ میں مختلف علاقوں کے قوانین مختلف ہیں جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہم جنس پرستی جو اُن کے مذہب کے مطابق بھی گناہِ کبیرہ ہے وہ کسی علاقہ میں جُرم ہے اور کسی میں قانون کے عین مطابق
اگر ہماری قوم کی اکثریت سرد مہری ۔ بے حِسی یا بیوقوفانہ خودغرضی کا شکار نہ ہوتی تو کوئی ڈکٹیٹر مُلک پر قبضہ نہیں کر سکتا تھا اور نہ کوئی مُلک خواہ امریکا ہی ہو ہمارے مُلک میں مداخلت تو کیا اس کی طرف بُری آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اسی سرد مہری ۔ بے حِسی اور خودغرضی کی وجہ سے ہماری قوم نے مشرقی پاکستان گنوایا تھا اور باقی کو اس حال میں پہنچایا جہاں آج ہے ۔
ریاستہائے متحدہ امریکا کے بانیوں میں سے ایک بنجامِن فرینکلِن [Benjamin Franklin] سے 1787ء میں کسی نے پوچھا “آپ نے ہمیں کیا دیا ہے؟” اُس نے جواب دیا “جمہوریت ۔ اگر آپ لوگ اسے سنبھال سکیں” ۔ ہماری قوم کو قائداعظم نے ایک مُلک اور جمہوریت زبردست سیاسی قوت کے ساتھ دی تھی ۔ آدھی صدی میں ہم نے اُس کا جو حال کر دیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ جمہوریت مضبوط اداروں کی بنا پر ہوتی ہے اور اداروں کو فعال رکھنے کیلئے مسلسل جد و جہد ضروری ہوتی ہے ۔ اگر گھر یا دفتر میں بیٹھے اداروں کی صحت کی سند جاری کر دی جائے تو ادارے انحطاط کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اداروں کے اصل محافظ عوام ہوتے ہیں ۔ ایک فرانسیسی مفکّر [Montesquieu] نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں کہا تھا ” بادشاہت میں ایک شہزادے کا ظُلم و تشدد عوامی بہبود کیلئے اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا جمہوریت میں ایک شہری کی سرد مہری”
مئی 2006ء میں ایک نوجوان سیّد عدنان کاکا خیل اُٹھا اور اسلام آباد کے کنوینشن سینٹر میں مُلک کے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو آئینہ دکھا دیا ۔ فروری 2007ء میں اس کی وڈیو کی سی ڈی راولپنڈی بار میں پہنچی اور وکلاء نے بار بار دیکھی ۔ مارچ 2007ء میں پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا تو راولپنڈی کے وکلاء کی حُب الوطنی جاگ جاگ چکی تھی چنانجہ وکلاء کی تحریک شروع ہوئی جو دو سال زندہ رکھی گئی
قوم کو مرہونِ منت ہونا چاہیئے سیّد عدنان کاکا خیل کا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کا جس نے ایک باوردی ڈکٹیٹر کے سامنے جھُکنے سے انکار کیا اور قید وبند کی صعوبتیں جھیلیں اور اُن وکلاء کا جنہوں نے اپنی روزی پر لات مار کر ۔ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک عمدہ تحریک چلائی ۔ قوم کو شکرگذار ہونا چاہیئے اُن درجنوں بوڑھوں کا اور سینکڑوں جوانوں کا جنہوں نے تمام پابندیوں کو توڑ کر اور 200 اشک آور گیس کے گولے برداشت کرکے لاہور جی پی چوک پر پورا دن احتجاج کیا ۔ قوم کو آفرین کہنا چاہیئے اُس سپرنٹنڈنٹ پولیس گُوجرانوالا کو جس نے غیر قانونی حُکم ماننے سے انکار ۔ قوم کو مشکور ہونا چاہیئے اُس مجسٹریٹ کا جس جی پی او چوک لاہور پر احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کے غیر قانونی حُکم کو ماننے سے انکار کیا ۔ میاں نواز شریف کو بھی کچھ تو داد دینا چاہیئے جس نے اپنی جان داؤ پر لگا غیرقانونی نظربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کا حصار توڑا اور جلوس کی سربراہی کر کے اُسے کامیاب بنایا ۔ اللہ کی کرم فرمائی ہے کہ ابھی اس قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے ۔ سچ کہا تھا شاعرِ مشرق نے
نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ۔ ابھی تو جمہوریت کے سکول میں داخلہ لیا ہے ۔ بہت سے سبق یاد کرنا اور کئی امتحان دینا باقی ہیں اور اِن شآءَ اللہ کامیاب بھی ہونا ہے
سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی
سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔
اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے
جب آپ آنکھیں بند کر کے ظلم اور ظالم کو معصوم ثابت کرنے لگ جائیں اور اس کی پشت پناہی کریں اور اسے تحفظ فراہم کریں تو پھر یہ سوال کیوں کہ اگر فلاں واقعہ پاکستان میں پیش آیا ہوتا تو اس طرح نہ ہوتا ۔ ۔ ۔ یہ نہیں فراموش کریں کہ تربیت میں خود آپ کی اپنی ذات بھی ملوث ہے !!
دو روز قبل ہمارے ایک فیملی ممبر کا آئی فون گم ہو گیا۔ ہم نے گھر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر فون نہ ملا۔ اگلے دن کسی نے اسی آئی فون سے ٹیکسٹ میسج بھیجا کہ یہ فون ان صاحب کو ملا اور انہوں نے پولیس آفیسر کے حوالے کر دیا۔ ہم لوگ اس شہر کے پولیس سٹیشن گئے مگر معلوم ہوا کہ فون ابھی تک کسی نے دفتر میں جمع نہیں کرایا۔ آج قریبی پولیس سٹیشن سے ہمارے ہی فون کے ذریعے کاال آئی اور بتایا گیا کہ دوسرے شہر کی پولیس نے آئی فون ان کے حوالے کیا ہے اور ہم آ کر اپنا فون لے جائیں۔ ہم لوگ پولیس سٹیشن گئے اور فون لے کر واپس آگئے۔ فون ویسے کا ویسا ہی تھا جیسا ہم نے کھویا تھا۔
اگر یہی واقعہ پاکستان میں پیش آتا تو فون کے ملنے کے بہت کم چانسز ہوتے۔ کھویا ہوا فون ملنا تو درکنار پاکستان میں فون عام آدمی سے چھینے جانے کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ مسلمان بے ایمانی، دھوکہ دہی اور فراڈ کا سمبل بنتے جا رہے ہیں اور یورپ کے کافر ایمانداری اور مخلصی میں پاکستانیوں سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ امریکہ کے چند برے علاقوں کو چھوڑ کر آپ کی چیز باہر پڑی رہے تو کوئی اس کی طرف دیکھتا تک نہیں مگر پاکستان میں آپ کی نظر آپ کے سامان سے ہٹی نہیں اور آپ کا سامان غائب ہوا نہیں۔ یورپ میں عورت تنگ لباس اور بے پردہ جا رہی ہو کوئی اس کی طرف کم ہی دیکھتا ہے، پاکستان میں عورت برقعے میں بھی جا رہی ہو تو مرد حضرات اسے پردے کے اندر سے بھی جھانک لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
ہماری ناقص عقل میں اس کی جو وجہ آئی ہے وہ ہے والدین اور اساتذہ کا بچوں کی تربیت ایمانداری سے نہ کرنا۔ آپ کے بچے اگر یورپ کے کسی سکول سے میڑک پاس کر لیں تو وہ آپ کی پاکستانی ذہینت کو ناپسند کرنا شروع کر دیں گے۔ آپ کو دوسروں کی غیبت کرتے ہوئے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بولتے ہوئے ٹوکیں گے۔ کیونکہ انہیں سکول میں یہی سکھایا جاتا ہے کہ جھوٹ نہیں بولو، دھوکہ نہیں دو اور اگر کہیں کوئی چیز پڑی مل جائے تو اسے اس کے مالک تک پہنچانے کی کوشش کرو۔
گھر میں تربیت میں کمی رہ جانے کے باوجود ہم یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کے بچوں کی صرف سکول کی تربیت کی بدولت ایمانداری اور کردار کی پختگی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ یہی بچے بڑے ہو کر یورپی معاشرے کا حصہ بنتے ہیں اور ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ ان بچوں کو اگر پاکستانی بچوں سے ملوایا جائے تو پاکستانی بچے انہیں بدھو اور بیوقوف سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بچے چکری نہیں ہوتے۔
ہمارے خیال ميں اگر پاکستان کے اساتذہ بھی دل سے کوشش کریں تو وہ اچھے افراد کی شکل میں اگلی نسل کو بہترین تحفہ دے سکتے ہیں۔ بچے کو اگر بچپن سے ہی اچھی تربیت دی جائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ خود کو بدلنے کیساتھ ساتھ اپنے والدین کو بھی راہ راست پر نہ لا سکے۔ تبدیلی کیلیے ضروری ہے کوئی حکمران، کوئی افسر، کوئی ہیڈماسٹر اس نیک کام کو شروع کرے اور پھر دیکھے کہ ہم مسلمان دوبارہ باوقار اور باکردار مشہور ہو جائیں گے۔